Repentance کے بارے میں احادیث
۲۳۲ مستند احادیث ملیں
سنن ابن ماجہ : ۱۶۱
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ وَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا وَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رَدْغَةُ الْخَبَالِ قَالَ " عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ " .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پی کر مست ہو جائے ( نشہ ہو جائے ) اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے، اور اسے نشہ آ جائے تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر وہ اس دوران مر گیا تو جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ پھر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہو جائے تو پھر اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہو گی، اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا، اور اگر اس نے پھر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، اب اگر وہ ( اس کے بعد بھی ) پئے تو اللہ تعالیٰ کے لیے حق ہو گا کہ اسے قیامت کے دن «ردغۃ الخبال» پلائے، لوگوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! یہ «ردغۃ الخبال» کیا ہے؟ فرمایا: جہنمیوں کا پیپ ۔
سنن ابن ماجہ : ۱۶۲
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَالْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الْمَجْلِسِ يَقُولُ
" رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَىَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ " . مِائَةَ مَرَّةٍ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم شمار کرتے رہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور» اے میرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول فرما لے، تو ہی توبہ قبول فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے سو بار کہتے تھے۔
سنن ابن ماجہ : ۱۶۳
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، سَنَةَ إِحْدَى وَثَلاَثِينَ وَمِائَتَيْنِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، فِي سَنَةِ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَةٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ فِي مَجْلِسِ الأَعْمَشِ مُنْذُ خَمْسِينَ سَنَةً حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجَمَلِيُّ فِي زَمَنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُكْتِبِ عَنْ طَلِيقِ بْنِ قَيْسٍ الْحَنَفِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ
" رَبِّ أَعِنِّي وَلاَ تُعِنْ عَلَىَّ وَانْصُرْنِي وَلاَ تَنْصُرْ عَلَىَّ وَامْكُرْ لِي وَلاَ تَمْكُرْ عَلَىَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَىَّ رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا لَكَ ذَكَّارًا لَكَ رَهَّابًا لَكَ مُطِيعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَاهْدِ قَلْبِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي " . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الطَّنَافِسِيُّ قُلْتُ لِوَكِيعٍ أَقُولُهُ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ قَالَ نَعَمْ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یہ پڑھا کرتے تھے: «رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لك شكارا لك ذكارا لك رهابا لك مطيعا إليك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي واهد قلبي وسدد لساني وثبت حجتي واسلل سخيمة قلبي» اے میرے رب! میری مدد فرما، اور میرے مخالف کی مدد مت کر، اور میری تائید فرما، اور میرے مخالف کی تائید مت کر، اور میرے لیے تدبیر فرما، میرے خلاف کسی کی سازش کامیاب نہ ہونے دے، اور مجھے ہدایت فرما، اور ہدایت کو میرے لیے آسان کر دے، اور اس شخص کے مقابلہ میں میری مدد فرما جو مجھ پر ظلم کرے، اے اللہ! مجھے اپنا شکر گزار اور ذکر کرنے والا، ڈرنے والا، اور اپنا مطیع فرماں بردار، رونے اور گڑگڑانے والا، رجوع کرنے والا بندہ بنا لے، اے اللہ میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میرے دل کو صحیح راستے پر لگا، میری زبان کو مضبوط اور درست کر دے، میری دلیل و حجت کو مضبوط فرما، اور میرے دل سے بغض و عناد ختم کر دے ۔ ابوالحسن طنافسی کہتے ہیں کہ میں نے وکیع سے کہا: کیا میں یہ دعا قنوت وتر میں پڑھ لیا کروں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پڑھ لیا کرو۔
سنن ابن ماجہ : ۱۶۴
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ مَنْ حَفِظَهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَهِيَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ الأَوَّلُ الآخِرُ الظَّاهِرُ الْبَاطِنُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ الْمَلِكُ الْحَقُّ السَّلاَمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ الْعَلِيمُ الْعَظِيمُ الْبَارُّ الْمُتَعَالِ الْجَلِيلُ الْجَمِيلُ الْحَىُّ الْقَيُّومُ الْقَادِرُ الْقَاهِرُ الْعَلِيُّ الْحَكِيمُ الْقَرِيبُ الْمُجِيبُ الْغَنِيُّ الْوَهَّابُ الْوَدُودُ الشَّكُورُ الْمَاجِدُ الْوَاجِدُ الْوَالِي الرَّاشِدُ الْعَفُوُّ الْغَفُورُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ التَّوَّابُ الرَّبُّ الْمَجِيدُ الْوَلِيُّ الشَّهِيدُ الْمُبِينُ الْبُرْهَانُ الرَّءُوفُ الرَّحِيمُ الْمُبْدِئُ الْمُعِيدُ الْبَاعِثُ الْوَارِثُ الْقَوِيُّ الشَّدِيدُ الضَّارُّ النَّافِعُ الْبَاقِي الْوَاقِي الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ الْمُقْسِطُ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ الْقَائِمُ الدَّائِمُ الْحَافِظُ الْوَكِيلُ الْفَاطِرُ السَّامِعُ الْمُعْطِي الْمُحْيِي الْمُمِيتُ الْمَانِعُ الْجَامِعُ الْهَادِي الْكَافِي الأَبَدُ الْعَالِمُ الصَّادِقُ النُّورُ الْمُنِيرُ التَّامُّ الْقَدِيمُ الْوِتْرُ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ " . قَالَ زُهَيْرٌ فَبَلَغَنَا عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ أَوَّلَهَا يُفْتَحُ بِقَوْلِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ لَهُ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَى .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو، چونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اس لیے طاق کو پسند کرتا ہے جو انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور وہ ننانوے نام یہ ہیں: «الله» اسم ذات سب ناموں سے اشرف اور اعلیٰ ، «الواحد» اکیلا، ایکتا ، «الصمد» بے نیاز ، «الأول» پہلا ، «الآخر» پچھلا ، «الظاهر» ظاہر ، «الباطن» باطن ، «الخالق» پیدا کرنے والا ، «البارئ» بنانے والا ، «المصور» صورت بنانے والا ، «الملك» بادشاہ ، «الحق» سچا ، «السلام» سلامتی دینے والا ، «المؤمن» یقین والا ، «المهيمن» نگہبان ، «العزيز» غالب ، «الجبار» تسلط والا ، «المتكبر» بڑائی والا ، «الرحمن» بہت رحم کرنے والا ،«الرحيم» مہربان ، «اللطيف» بندوں پر شفقت کرنے والا ، «الخبير» خبر رکھنے والا ، «السميع» سننے والا ، «البصير» دیکھنے والا ،«العليم» جاننے والا ، «العظيم» بزرگی والا ، «البار» بھلائی والا ، «المتعال» برتر ، «الجليل» بزرگ ، «الجميل» خوبصورت ،«الحي» زندہ ، «القيوم» قائم رہنے اور قائم رکھنے والا ، «القادر» قدرت والا ، «القاهر» قہر والا ، «العلي» اونچا ، «الحكيم» حکمت والا ، «القريب» نزدیک ، «المجيب» قبول کرنے والا ، «الغني» تونگر بے نیاز ، «الوهاب» بہت دینے والا ، «الودود» بہت چاہنے والا ، «الشكور» قدر کرنے والا ، «الماجد» بزرگی والا ، «الواجد» پانے والا ، «الوالي» مالک مختار، حکومت کرنے والا ، «الراشد» خیر والا ، «العفو» بہت معاف کرنے والا ، «الغفور» بہت بخشنے والا ، «الحليم» بردبار ، «الكريم» کرم والا ، «التواب» توبہ قبول کرنے والا ، «الرب» پالنے والا ، «المجيد» بزرگی والا ، «الولي» مددگار و محافظ ، «الشهيد» نگراں، حاضر ، «المبين» ظاہر کرنے والا ،«البرهان» دلیل ، «الرءوف» شفقت والا ، «الرحيم» مہربان ، «المبدئ» پہلے پہل پیدا کرنے والا ، «المعيد» دوبارہ پیدا کرنے والا ،«الباعث» زندہ کر کے اٹھانے والا ، «الوارث» وارث ، «القوي» ( قوی ) زور آور ، «الشديد» سخت ، «الضار» نقصان پہنچانے والا ،«النافع» نفع دینے والا ، «الباقي» قائم ، «الواقي» بچانے والا ، «الخافض» پست کرنے والا ، «الرافع» اونچا کرنے والا ، «القابض» روکنے والا ، «الباسط» چھوڑ دینے والا، پھیلانے والا ، «المعز» عزت دینے والا ، «المذل» ذلت دینے والا ، «المقسط» منصف ،«الرزاق» روزی دینے والا ، «ذو القوة» طاقت والا ، «المتين» مضبوط ، «القائم» ہمیشہ رہنے والا ، «الدائم» ہمیشگی والا ، «الحافظ» بچانے والا ، «الوكيل» کارساز ، «الفاطر» پیدا کرنے والا ، «السامع» سننے والا ، «المعطي» دینے والا ، «المحيي» زندہ کرنے والا ، «المميت» مارنے والا ، «المانع» روکنے والا ، «الجامع» جمع کرنے والا ، «الهادي» ( رہبری ہادی ) راہ بنانے والا ، «الكافي» کفایت کرنے والا ، «الأبد» ہمیشہ برقرار ، «العالم» ( عالم ) جاننے والا ، «الصادق» سچا ، «النور» روشن، ظاہر ، «المنير» روشن کرنے والا ،«التام» مکمل ، «القديم» ہمیشہ رہنے والا ، «الوتر» طاق ، «الأحد» اکیلا ، «الصمد» بے نیاز ، «الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» جس نے نہ جنا ہے نہ وہ جنا گیا ہے، اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے ۔ زہیر کہتے ہیں: ہمیں بہت سے اہل علم سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ان ناموں کی ابتداء اس قول سے کی جاتی ہے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد بيده الخير وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله له الأسماء الحسنى» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اسی کے لیے اچھے نام ہیں ۔
سنن ابن ماجہ : ۱۶۵
It Was
Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَتْنَا حَبَابَةُ ابْنَةُ عَجْلاَنَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَفْصٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ جَرِيرٍ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ وَدَاعٍ الْخُزَاعِيَّةِ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ
" دُعَاءُ الْوَالِدِ يُفْضِي إِلَى الْحِجَابِ " .
ام حکیم بنت وداع خزاعیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: والد ( اور والدہ ) کی دعا حجاب الٰہی ( مقام قبولیت ) تک پہنچتی ہے ۔
سنن ابن ماجہ : ۱۶۶
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ
Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِنَّ مِنْ قِبَلِ مَغْرِبِ الشَّمْسِ بَابًا مَفْتُوحًا عَرْضُهُ سَبْعُونَ سَنَةً فَلاَ يَزَالُ ذَلِكَ الْبَابُ مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ فَإِذَا طَلَعَتْ مِنْ نَحْوِهِ لَمْ يَنْفَعْ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا " .
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مغرب ( یعنی سورج کے ڈوبنے کی سمت ) میں ایک کھلا دروازہ ہے، اس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، یہ دروازہ توبہ کے لیے ہمیشہ کھلا رہے گا، جب تک سورج ادھر سے نہ نکلے، اور جب سورج ادھر سے نکلے گا تو اس وقت کسی شخص کا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا ایمان لا کر کوئی نیکی نہ کما لی ہو، اس کا ایمان لانا کسی کام نہ آئے گا ۔
سنن ابن ماجہ : ۱۶۷
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ :
" لَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ مَعَهُمَا ثَالِثٌ وَلاَ يَمْلأُ نَفْسَهُ إِلاَّ التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم ( انسان ) کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ یہ تمنا کرے گا کہ ایک تیسری وادی اور ہو، مٹی کے علاوہ اس کے نفس کو کوئی چیز نہیں بھر سکتی، اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اس کی توبہ قبول کرتا ہے ۔
سنن ابن ماجہ : ۱۶۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ :
" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْهُ بِضَالَّتِهِ إِذَا وَجَدَهَا " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ تم اپنی گمشدہ چیز پانے سے خوش ہوتے ہو ۔
سنن ابن ماجہ : ۱۶۹
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Hasan Sahih
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ :
" لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَبْلُغَ خَطَايَاكُمُ السَّمَاءَ ثُمَّ تُبْتُمْ لَتَابَ عَلَيْكُمْ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ کرو یہاں تک کہ تمہارے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں، پھر تم توبہ کرو تو ( اللہ تعالیٰ ) ضرور تمہاری توبہ قبول کرے گا ۱؎۔
سنن ابن ماجہ : ۱۷۰
Abu Sa'eed
Daif
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ :
" لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ أَضَلَّ رَاحِلَتَهُ بِفَلاَةٍ مِنَ الأَرْضِ فَالْتَمَسَهَا حَتَّى إِذَا أَعْيَى تَسَجَّى بِثَوْبِهِ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعَ وَجْبَةَ الرَّاحِلَةِ حَيْثُ فَقَدَهَا فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ فَإِذَا هُوَ بِرَاحِلَتِهِ " .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے ایسے ہی خوش ہوتا ہے جیسے کسی آدمی کی سواری چٹیل میدان میں کھو جائے، وہ اس کو تلاش کرے یہاں تک کہ جب وہ تھک جائے تو کپڑے سے اپنا منہ ڈھانک کر لیٹ جائے، اسی حالت میں اچانک وہ اپنی سواری کے قدموں کی چاپ وہاں سے آتی سنے جہاں اسے کھویا تھا، وہ اپنے چہرے سے اپنا کپڑا اٹھائے تو دیکھے کہ اس کی سواری موجود ہے ۔
سنن ابن ماجہ : ۱۷۱
It Was
Sahih
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ : " النَّدَمُ تَوْبَةٌ " . فَقَالَ لَهُ أَبِي : أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ : " النَّدَمُ تَوْبَةٌ " . قَالَ : نَعَمْ .
عبداللہ بن معقل مزنی کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ندامت ( شرمندگی ) توبہ ہے ، میرے والد نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت توبہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ۔
سنن ابن ماجہ : ۱۷۲
It Was
Hasan
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ :
" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ " .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ ( عزوجل ) اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا رہتا ہے جب تک اس کی جان حلق میں نہ آ جائے ۔
مؤطا امام مالک : ۱۷۳
Maqtu Daif
قَالَ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَغَيْرِهِ، أَنَّهُمْ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ، جُلِدَ الْحَدَّ أَتَجُوزُ شَهَادَتُهُ فَقَالُوا نَعَمْ إِذَا ظَهَرَتْ مِنْهُ التَّوْبَةُ .
یحییٰ نے مالک کی سند سے کہا کہ انہیں سلیمان بن یسار اور دوسرے لوگوں سے خبر ملی ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جسے کوڑے مارے گئے تھے اور اس کی گواہی جائز نہیں تھی۔ انہوں نے کہا ہاں اگر اس سے توبہ ظاہر ہو جائے۔
مؤطا امام مالک : ۱۷۴
Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ وَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَمَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَمَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ " . قَالَتِ اشْتَرَيْتُهَا لَكَ تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ الْمَلاَئِكَةُ " .
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک تکیہ خریدا اس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجرے کے دروازے پر کھڑے ہو رہے اور اندر نہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناراضگی کے آثار معلوم ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا میں توبہ کرتی ہوں اللہ اور اس کے رسول سے میرا کیا گناہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ تکیہ کیسا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا میں نے اس تکیے کو اس لئے خریدا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھیں اس پر تکیہ لگائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تصویر بنانے والے عذاب دیئے جائیں گے قیامت کے روز ان سے کہا جائے گا تم جان ڈالو ان صورتوں کو جن کو تم نے دنیا میں بنایا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس گھر میں تصویرں ہوتی ہیں اس میں فرشتے نہیں آتے ۔
الادب المفرد : ۱۷۵
عطاء ابن ابی رباح / عطاء ابن یسار رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي خَطَبْتُ امْرَأَةً، فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَنِي، وَخَطَبَهَا غَيْرِي، فَأَحَبَّتْ أَنْ تَنْكِحَهُ، فَغِرْتُ عَلَيْهَا فَقَتَلْتُهَا، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: أُمُّكَ حَيَّةٌ؟ قَالَ: لاَ، قَالَ: تُبْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَتَقَرَّبْ إِلَيْهِ مَا اسْتَطَعْتَ. فَذَهَبْتُ فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: لِمَ سَأَلْتَهُ عَنْ حَيَاةِ أُمِّهِ؟ فَقَالَ: إِنِّي لاَ أَعْلَمُ عَمَلاً أَقْرَبَ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ بِرِّ الْوَالِدَةِ.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے زید بن اسلم نے عطاء بن بائیں سے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی لیکن اس نے مجھ سے شادی کرنے سے انکار کر دیا، اور کسی اور نے مجھ سے شادی کرنے کا ارادہ کیا۔ اس نے اس سے شادی کی، لیکن میں نے اس سے حسد کیا اور اسے مار ڈالا۔ کیا میرے لیے کوئی توبہ ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ سے توبہ کرو۔ اور جتنا ہو سکے اس کے قریب ہو جاؤ۔ چنانچہ میں نے جا کر ابن عباس سے پوچھا: آپ نے ان سے ان کی والدہ کی زندگی کے بارے میں کیوں پوچھا؟ اس نے کہا: میں اس سے بہتر عمل نہیں جانتا۔ اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کے لیے اللہ تعالیٰ کے لیے۔
حدیث مجموعہ : ۱۷۶
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنك لتطمع الرياسة سريعا، فإنها ستكون سببا للتوبة يوم القيامة، فكم هو خير وشر (في الآخرة)". (البخاري رقم 7148 والنسائي وغيرهما)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جلدی سے قیادت کی تمنا کرو گے، کیونکہ یہ قیامت کے دن توبہ کا باعث ہو گا، تو (آخرت میں) کتنی بھلائی اور برائی ہو گی۔ (البخاری نمبر 7148، النسائی وغیرہ)
مشکوٰۃ المصابیح : ۱۷۷
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
میں التور کی طرف نکلا اور کعب الاحبر سے ملاقات کی جس کے ساتھ میں بیٹھا تھا، وہ مجھے تورات کے بارے میں بتا رہے تھے اور میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتا رہا تھا۔ ایک بات جو میں نے بتائی وہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس دن سورج طلوع ہوا وہ جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم کو پیدا کیا گیا، اسی دن ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی دن ان کی وفات ہوئی، اسی دن آخری گھڑی آئے گی، جمعہ کے دن ہر حیوان آخری گھڑی کے خوف سے طلوع آفتاب تک کے نظارے پر ہوتا ہے، لیکن اس میں کوئی مسلمان نہیں مانگے گا اور نہ ہی اس میں کوئی ایسی دعا مانگے گا جس میں کوئی مسلمان نہ ہو۔ خدا کی طرف سے اس کے دیئے بغیر۔" کعب نے کہا کہ یہ ہر سال میں ایک دن تھا لیکن جب میں نے اصرار کیا کہ ہر جمعہ کو کعب نے تورات پڑھی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملا۔ سلام کیا اور اسے کعب الاحبار سے میری ملاقات اور جمعہ کے بارے میں جو کچھ میں نے بتایا تھا اس کے بارے میں بتایا کہ کعب نے کہا تھا کہ یہ ہر سال میں ایک دن ہے۔ عبداللہ بی۔ سلام نے کہا کہ کعب نے جھوٹ بولا تھا لیکن جب میں نے ان سے کہا کہ کعب نے بعد میں تورات پڑھی اور کہا کہ یہ ہر جمعہ کو ہوتا ہے تو اس نے کہا کہ کعب نے سچ کہا ہے۔ عبداللہ بی۔ سلام نے پھر کہا کہ وہ جانتا ہے کہ یہ کون سا وقت ہے، اور جب میں نے ان سے پوچھا کہ مجھے اس کے بارے میں بتائیں اور اسے اپنے پاس نہ رکھیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ جمعہ کے آخر میں ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مسلمان اس میں نماز نہیں پڑھے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ "اگر کوئی شخص نماز کا انتظار کر رہا ہو تو وہ نماز میں مشغول رہتا ہے جب تک کہ وہ اسے نہ پڑھ لے۔" جب میں نے جواب دیا کہ ایسا ہی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا ہی ہوا۔
اسے مالک، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے اور احمد نے اسے اس بیان تک نقل کیا ہے کہ کعب نے سچ کہا تھا۔
حدیث مجموعہ : ۱۷۸
عائشہ رضی اللہ عنہا
Sahih
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ عُمَرُ يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدرٍ فَكَأَنَّ بَعْضَهُمْ وَجَدَ في نفسِهِ فَقَالَ : لِمَ يَدْخُلُ هَذَا معنا ولَنَا أبْنَاءٌ مِثلُهُ فَقَالَ عُمَرُ : إنَّهُ مَنْ حَيثُ عَلِمْتُمْ فَدعانِي ذاتَ يَومٍ فَأدْخَلَنِي مَعَهُمْ فَمَا رَأيتُ أَنَّهُ دَعَاني يَومَئذٍ إلاَّ لِيُرِيَهُمْ قَالَ : مَا تَقُولُونَ في قَولِ الله : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ: فَقَالَ بعضهم : أُمِرْنَا نَحْمَدُ اللهَ وَنَسْتَغْفِرُهُ إِذَا نَصَرنَا وَفَتحَ عَلَيْنَا وَسَكتَ بَعْضُهُمْ فَلَمْ يَقُلْ شَيئاً فَقَالَ لي : أَكَذلِكَ تقُولُ يَا ابنَ عباسٍ ؟ فقلت : لا قَالَ : فَمَا تَقُولُ ؟ قُلْتُ : هُوَ أجَلُ رَسُولِ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم أعلَمَهُ لَهُ، قَالَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَذَلِكَ عَلاَمَةُ أجَلِكَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّاباً فَقَالَ عُمَرُ مَا أعلَمُ مِنْهَا إلاَّ مَا تَقُولُ رواه البخاري
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی ہے، انہوں نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ مجھے بدر کے شیوخ کے ساتھ لایا کرتے تھے، گویا ان میں سے بعض نے اسے اپنے اندر پایا اور کہا: یہ شخص ہمارے ساتھ کیوں آیا؟ ہمارے ان جیسے بیٹے ہیں، عمر نے کہا: یہ وہ جگہ ہے جہاں سے تم نے سیکھا ہے۔ چنانچہ اس نے ایک دن مجھے بلایا اور مجھے ان کے ساتھ اندر آنے دیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ اس نے مجھے بلایا سوائے انہیں دکھانے کے۔ اس نے کہا: تم خدا کے اس قول کے بارے میں کیا کہتے ہو: جب خدا کی فتح و نصرت آئے گی؟ ان میں سے بعض نے کہا: ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی حمد و ثناء کریں اور اس سے استغفار کریں جب ہمیں فتح و نصرت ملے۔ اور ان میں سے کچھ خاموش رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابن عباس کیا تم یہی کہتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: تو آپ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدت ہے، اللہ آپ پر رحم کرے۔ اور سب سے زیادہ عالم نے اسے سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب اللہ کی فتح اور فتح آجائے اور یہ تمہاری موت کی نشانی ہو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے معافی مانگو، کیونکہ وہ توبہ کرنے والا تھا۔‘‘ عمر، میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا سوائے اس کے کہ وہ کیا کہتی ہیں۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔
حدیث مجموعہ : ۱۷۹
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يقول الله تعالى: أنا كعبد يذكرني، وأنا معه إذا ذكرني، والله إن الله تعالى ليجازيك على توبة عبده». أكثر سعادة من الرجل الذي يستعيد مركبته المفقودة في الصحراء. ومن تحرك إلي ذراعا تحركت إليه ذراعا. ومن مشى إليَّ ذراعاً مشيت إليه ذراعين، وإذا مشى إليَّ ركضت إليه». (البخاري 7805، مسلم 7128)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اس بندے کی طرح ہوں جو مجھے یاد کرتا ہے اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، خدا کی قسم اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے بندے کی توبہ کا اجر دے گا۔ اس آدمی سے زیادہ خوش ہے جو صحرا میں اپنی کھوئی ہوئی گاڑی واپس لے لے۔ جس نے میری طرف ایک بازو کی لمبائی بڑھائی میں اس کی طرف ایک بازو کی لمبائی بڑھاؤں گا۔ اور جو میرے پاس ایک ہاتھ چل کر آئے گا میں اس کی طرف دو ہاتھ چلوں گا اور اگر وہ میری طرف چل کر آئے گا تو میں اس کی طرف دوڑوں گا۔ (بخاری 7805، مسلم 7128)
حدیث مجموعہ : ۱۸۰
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يقول الله تعالى: أؤيد ظن عبدي (أي إذا ظن أن الله سيغفر له ويقبل توبته وينقذه من الخطر فعلت ذلك)، ابق معي إذا ذكرني، فإذا ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي، وإذا ذكرني في مجلس ذكرته في مجلس من هو خير منهم. (الملائكة)." (البخاري 7405، مسلم 6981، 7008)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے خیالات کی تائید کرتا ہوں (یعنی اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ اسے معاف کر دے گا، اس کی توبہ قبول کرے گا اور اسے خطرے سے بچا لے گا تو میں ایسا کروں گا)۔ میرے ساتھ رہو اگر وہ میرا ذکر کرے۔ اگر وہ میرا ذکر اپنے پاس کرتا ہے تو میں اسے اپنے پاس یاد کرتا ہوں اور اگر وہ کسی مجلس میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کا ذکر ان سے بہتر شخص کی مجلس میں کرتا ہوں۔ (فرشتے)۔" (بخاری 7405، مسلم 6981، 7008)