سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۱۱۲۴
حدیث #۳۱۱۲۴
حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا وَصُرِفَتِ الْقِبْلَةُ إِلَى الْكَعْبَةِ بَعْدَ دُخُولِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ بِشَهْرَيْنِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا صَلَّى إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ أَكْثَرَ تَقَلُّبَ وَجْهِهِ فِي السَّمَاءِ وَعَلِمَ اللَّهُ مِنْ قَلْبِ نَبِيِّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ يَهْوَى الْكَعْبَةَ فَصَعِدَ جِبْرِيلُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ وَهُوَ يَصْعَدُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ يَنْظُرُ مَا يَأْتِيهِ بِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ} الآيَةَ فَأَتَانَا آتٍ فَقَالَ إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ صُرِفَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَنَحْنُ رُكُوعٌ فَتَحَوَّلْنَا فَبَنَيْنَا عَلَى مَا مَضَى مِنْ صَلاَتِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا جِبْرِيلُ كَيْفَ حَالُنَا فِي صَلاَتِنَا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ} .
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ مہینے تک بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نماز ادا کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے دو مہینہ بعد قبلہ خانہ کعبہ کی جانب تبدیل کر دیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت المقدس کی جانب نماز پڑھتے تو اکثر اپنا چہرہ آسمان کی جانب اٹھاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے دل کا حال جان لیا کہ آپ خانہ کعبہ کی جانب رخ کرنا پسند فرماتے ہیں، ایک بار جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے، آپ ان کی طرف نگاہ لگائے رہے، وہ آسمان و زمین کے درمیان اوپر چڑھ رہے تھے، آپ انتظار میں تھے کہ جبرائیل علیہ السلام کیا حکم لاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «قد نرى تقلب وجهك في السماء» ( سورۃ البقرہ: ۱۴۴ ) ، ہمارے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا، ہم دو رکعتیں بیت المقدس کی جانب پڑھ چکے تھے، اور رکوع میں تھے، ہم اسی حالت میں خانہ کعبہ کی جانب پھر گئے، ہم نے اپنی پچھلی نماز پر بنا کیا اور دو رکعتیں اور پڑھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل ہماری ان نماز کا کیا حال ہو گا جو ہم نے بیت المقدس کی جانب پڑھی ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «وما كان الله ليضيع إيمانكم» اللہ تعالیٰ تمہاری نماز کو ضائع کرنے والا نہیں ( سورة البقرة: 143 ) ۱؎۔
راوی
بارہ رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۵/۱۰۱۰
درجہ
Munkar
زمرہ
باب ۵: نماز قائم کرنا