سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۲۳۹۸

حدیث #۳۲۳۹۸
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ النَّجْرَانِيِّ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أُسْلِمُ فِي نَخْلٍ قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ قَالَ لاَ ‏.‏ قُلْتُ لِمَ قَالَ إِنَّ رَجُلاً أَسْلَمَ فِي حَدِيقَةِ نَخْلٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ النَّخْلُ فَلَمْ يُطْلِعِ النَّخْلُ شَيْئًا ذَلِكَ الْعَامَ فَقَالَ الْمُشْتَرِي هُوَ لِي حَتَّى يُطْلِعَ ‏.‏ وَقَالَ الْبَائِعُ إِنَّمَا بِعْتُكَ النَّخْلَ هَذِهِ السَّنَةَ ‏.‏ فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لِلْبَائِعِ ‏"‏ أَخَذَ مِنْ نَخْلِكَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ وَلاَ تُسْلِمُوا فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ ‏"‏ ‏.‏
نجرانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا میں کسی درخت کے کھجور کی ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کروں؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: کیوں؟ کہا: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کھجور کے ایک باغ کے پھلوں میں ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کی، لیکن اس سال کھجور کے درخت میں پھل آیا ہی نہیں، تو خریدار نے کہا: یہ درخت میرے رہیں گے جب تک ان میں کھجور نہ پھلے، اور بیچنے والے نے کہا: میں نے تو صرف اسی سال کا کھجور تیرے ہاتھ بیچا تھا، چنانچہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معاملہ لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے کہا: کیا اس نے تمہارے کھجور کے درختوں سے کچھ پھل لیے ؟ وہ بولا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرو گے، جو تم نے اس سے لیا ہے، اسے واپس کرو اور آئندہ کھجور کے درختوں میں بیع سلم اس وقت تک نہ کرو جب تک اس کے پھل استعمال کے لائق نہ ہو جائیں ۔
راوی
نجرانی رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۱۲/۲۲۸۴
درجہ
Daif
زمرہ
باب ۱۲: تجارت
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث