سنن ابن ماجہ — حدیث #۳۳۸۹۸
حدیث #۳۳۸۹۸
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي شَطْرَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اقْرَءُوا يَقُولُ الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَمِدَنِي عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ . فَيَقُولُ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} فَيَقُولُ أَثْنَى عَلَىَّ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ . يَقُولُ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ } فَيَقُولُ اللَّهُ مَجَّدَنِي عَبْدِي فَهَذَا لِي وَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ يَقُولُ الْعَبْدُ {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} يَعْنِي فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ وَآخِرُ السُّورَةِ لِعَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} فَهَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، آدھا میرے لیے ہے، اور آدھا میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پڑھو!، جب بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «حمدني عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری حمد ثنا بیان کی، اور بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، اور جب بندہ «الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أثنى علي عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری تعریف کی، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر جب بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:«مجدني عبدي فهذا لي وهذه الآية بيني وبين عبدي نصفين» میرے بندے نے میری عظمت بیان کی تو یہ میرے لیے ہے، اور یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی ہے، یعنی پھر جب بندہ «إياك نعبد وإياك نستعين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «فهذه بيني وبين عبدي ولعبدي ما سأل وآخر السورة لعبدي» یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی ہے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، اور سورت کی اخیر آیتیں میرے بندے کے لیے ہیں، پھر جب بندہ «اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: «فهذا لعبدي ولعبدي ما سأل» یہ میرے بندہ کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ۔
راوی
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن ابن ماجہ # ۳۳/۳۷۸۴
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۳۳: آداب