Prayer کے بارے میں احادیث

۱۰۵۲۳ مستند احادیث ملیں

صحیح بخاری : ۱۶۱
ابو سعید رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​عُمَرُ ‌بْنُ ​حَفْصٍ، ‌قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ سُفْيَانُ وَيَحْيَى وَأَبُو عَوَانَةَ عَنِ الأَعْمَشِ‏.‏
ہم ​سے ‌عمر ​بن ‌حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوصالح ذکوان نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ گرمی کے موسم میں ) ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس حدیث کی متابعت سفیان ثوری، یحییٰ اور ابوعوانہ نے اعمش کے واسطہ سے کی ہے۔
ابو سعید رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۳۸ Sahih
صحیح بخاری : ۱۶۲
ابو ذر الغفار رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​آدَمُ ‌بْنُ ​أَبِي ​إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُهَاجِرٌ أَبُو الْحَسَنِ، مَوْلًى لِبَنِي تَيْمِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ لِلظُّهْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَبْرِدْ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ أَبْرِدْ ‏"‏‏.‏ حَتَّى رَأَيْنَا فَىْءَ التُّلُولِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَتَفَيَّأُ تَتَمَيَّلُ‏.‏
ہم ​سے ‌آدم ​بن ​ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے بنی تیم اللہ کے غلام مہاجر ابوالحسن نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زید بن وہب جہنی سے سنا، وہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تھے کہ انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ مؤذن نے چاہا کہ ظہر کی اذان دے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت کو ٹھنڈا ہونے دو، مؤذن نے ( تھوڑی دیر بعد ) پھر چاہا کہ اذان دے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دو۔ جب ہم نے ٹیلے کا سایہ ڈھلا ہوا دیکھ لیا۔ ( تب اذان کہی گئی ) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ کی تیزی سے ہے۔ اس لیے جب گرمی سخت ہو جایا کرے تو ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا «يتفيئو» ( کا لفظ جو سورۃ النحل میں ہے ) کے معنے «تتميل‏» ( جھکنا، مائل ہونا ) ہیں۔
ابو ذر الغفار رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۳۹ Sahih
صحیح بخاری : ۱۶۳
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​أَبُو ​الْيَمَانِ، ‌قَالَ ‌أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى الظُّهْرَ، فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ السَّاعَةَ، فَذَكَرَ أَنَّ فِيهَا أُمُورًا عِظَامًا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَ عَنْ شَىْءٍ فَلْيَسْأَلْ، فَلاَ تَسْأَلُونِي عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ أَخْبَرْتُكُمْ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا ‏"‏‏.‏ فَأَكْثَرَ النَّاسُ فِي الْبُكَاءِ، وَأَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ ‏"‏ سَلُونِي ‏"‏‏.‏ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ السَّهْمِيُّ فَقَالَ مَنْ أَبِي قَالَ ‏"‏ أَبُوكَ حُذَافَةُ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ ‏"‏ سَلُونِي ‏"‏‏.‏ فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا‏.‏ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ عُرِضَتْ عَلَىَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ فَلَمْ أَرَ كَالْخَيْرِ وَالشَّرِّ ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ​ابوالیمان ‌حکم ‌بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے زہری کی روایت سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب سورج ڈھلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ سے باہر تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر منبر پر تشریف لائے۔ اور قیامت کا ذکر فرمایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت میں بڑے عظیم امور پیش آئیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی کو کچھ پوچھنا ہو تو پوچھ لے۔ کیونکہ جب تک میں اس جگہ پر ہوں تم مجھ سے جو بھی پوچھو گے۔ میں اس کا جواب ضرور دوں گا۔ لوگ بہت زیادہ رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر فرماتے جاتے تھے کہ جو کچھ پوچھنا ہو پوچھو۔ عبداللہ بن حذافہ سہمی کھڑے ہوئے اور دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے باپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے باپ حذافہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی برابر فرما رہے تھے کہ پوچھو کیا پوچھتے ہو۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ ادب سے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور انہوں نے فرمایا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے مالک ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نبی ہونے سے راضی اور خوش ہیں۔ ( پس اس گستاخی سے ہم باز آتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا اور بے جا سوالات کریں ) اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم اس دیوار کے کونے میں پیش کی گئی تھی۔ پس میں نے نہ ایسی کوئی عمدہ چیز دیکھی ( جیسی جنت تھی ) اور نہ کوئی ایسی بری چیز دیکھی ( جیسی دوزخ تھی ) ۔
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۴۰ Sahih
صحیح بخاری : ۱۶۴
ابو المنہال رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​حَفْصُ ​بْنُ ‌عُمَرَ، ​قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الصُّبْحَ وَأَحَدُنَا يَعْرِفُ جَلِيسَهُ، وَيَقْرَأُ فِيهَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ، وَيُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ وَأَحَدُنَا يَذْهَبُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ ثُمَّ يَرْجِعُ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، وَلاَ يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ‏.‏ ثُمَّ قَالَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ‏.‏ وَقَالَ مُعَاذٌ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً فَقَالَ أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ‏.‏
ہم ​سے ​حفص ‌بن ​عمر نے بیان کیا، کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ابوالمنہال کی روایت سے، انہوں نے ابوبرزہ (فضلہ بن عبید رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب ہم اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص کو پہچان لیتے تھے۔ صبح کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھتے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔ اور عصر کی نماز اس وقت کہ ہم مدینہ منورہ کی آخری حد تک ( نماز پڑھنے کے بعد ) جاتے لیکن سورج اب بھی تیز رہتا تھا۔ نماز مغرب کا انس رضی اللہ عنہ نے جو وقت بتایا تھا وہ مجھے یاد نہیں رہا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کو تہائی رات تک دیر کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، پھر ابوالمنہال نے کہا کہ آدھی رات تک ( مؤخر کرنے میں ) کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ اور معاذ نے کہا کہ شعبہ نے فرمایا کہ پھر میں دوبارہ ابوالمنہال سے ملا تو انہوں نے فرمایا ”یا تہائی رات تک“۔
ابو المنہال رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۴۱ Sahih
صحیح بخاری : ۱۶۵
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​مُحَمَّدٌ ​ـ ​يَعْنِي ‌ابْنَ مُقَاتِلٍ ـ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالظَّهَائِرِ فَسَجَدْنَا عَلَى ثِيَابِنَا اتِّقَاءَ الْحَرِّ‏.‏
ہم ​سے ​محمد ​بن ‌مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے غالب قطان نے بکر بن عبداللہ مزنی کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے آپ نے فرمایا کہ جب ہم ( گرمیوں میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز دوپہر دن میں پڑھتے تھے تو گرمی سے بچنے کے لیے کپڑوں پر سجدہ کیا کرتے۔
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۴۲ Sahih
صحیح بخاری : ۱۶۶
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
Sahih
حَدَّثَنَا ​أَبُو ​النُّعْمَانِ، ​قَالَ ​حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ـ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا وَثَمَانِيًا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ‏.‏ فَقَالَ أَيُّوبُ لَعَلَّهُ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ‏.‏ قَالَ عَسَى‏.‏
ہم ​سے ​ابوالنعمان ​نے ​بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا عمرو بن دینار سے۔ انہوں نے جابر بن زید سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں رہ کر سات رکعات ( ایک ساتھ ) اور آٹھ رکعات ( ایک ساتھ ) پڑھیں۔ ظہر اور عصر ( کی آٹھ رکعات ) اور مغرب اور عشاء ( کی سات رکعات ) ایوب سختیانی نے جابر بن زید سے پوچھا شاید برسات کا موسم رہا ہو۔ جابر بن زید نے جواب دیا کہ غالباً ایسا ہی ہو گا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما صحیح بخاری #۵۴۳ Sahih
صحیح بخاری : ۱۶۷
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌إِبْرَاهِيمُ ‌بْنُ ‌الْمُنْذِرِ، ‌قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِهَا‏.‏ وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ مِنْ قَعْرِ حُجْرَتِهَا‏.‏
ہم ‌سے ‌ابراہیم ‌بن ‌المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض لیثی نے ہشام بن عروہ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے کہ مائی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے تھے کہ ان کے حجرہ میں سے ابھی دھوپ باہر نہیں نکلتی تھی۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) صحیح بخاری #۵۴۴ Sahih
صحیح بخاری : ۱۶۸
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌قُتَيْبَةُ، ‌قَالَ ‌حَدَّثَنَا ​اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا، لَمْ يَظْهَرِ الْفَىْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا‏.‏
ہم ‌سے ‌قتیبہ ‌بن ​سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے ابن شہاب سے بیان کیا، انہوں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی تو دھوپ ان کے حجرہ ہی میں تھی۔ سایہ وہاں نہیں پھیلا تھا۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) صحیح بخاری #۵۴۵ Sahih
صحیح بخاری : ۱۶۹
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ‌نُعَيْمٍ، ​قَالَ ‌أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَةَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي لَمْ يَظْهَرِ الْفَىْءُ بَعْدُ‏.‏ وَقَالَ مَالِكٌ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَشُعَيْبٌ وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ وَالشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ‏.‏
ہم ‌سے ‌ابونعیم ​فضل ‌بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ابن شہاب زہری سے بیان کیا، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز پڑھتے تو سورج ابھی میرے حجرے میں جھانکتا رہتا تھا۔ ابھی سایہ نہ پھیلا ہوتا تھا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ امام مالک اور یحییٰ بن سعید، شعیب رحمہم اللہ اور ابن ابی حفصہ کے روایتوں میں ( زہری سے ) «والشمس قبل أن تظهر‏» کے الفاظ ہیں، ( جن کا مطلب یہ ہے کہ دھوپ ابھی اوپر نہ چڑھی ہوتی ) ۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) صحیح بخاری #۵۴۶ Sahih
صحیح بخاری : ۱۷۰
سائر بن سلمہ رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُحَمَّدُ ‌بْنُ ​مُقَاتِلٍ، ​قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي، عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ ـ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ ـ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ، وَيَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ‏.‏
ہم ‌سے ‌محمد ​بن ​مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں عوف نے خبر دی سیار بن سلامہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور میرے باپ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان سے میرے والد نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازیں کن وقتوں میں پڑھتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ دوپہر کی نماز جسے تم ”پہلی نماز“ کہتے ہو سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے۔ اور جب عصر پڑھتے اس کے بعد کوئی شخص مدینہ کے انتہائی کنارہ پر اپنے گھر واپس جاتا تو سورج اب بھی تیز ہوتا تھا۔ سیار نے کہا کہ مغرب کے وقت کے متعلق آپ نے جو کچھ کہا تھا وہ مجھے یاد نہیں رہا۔ اور عشاء کی نماز جسے تم «عتمه» کہتے ہو اس میں دیر کو پسند فرماتے تھے اور اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے اور صبح کی نماز سے اس وقت فارغ ہو جاتے جب آدمی اپنے قریب بیٹھے ہوئے دوسرے شخص کو پہچان سکتا اور صبح کی نماز میں آپ ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھا کرتے تھے۔
سائر بن سلمہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۴۷ Sahih
صحیح بخاری : ۱۷۱
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌عَبْدُ ​اللَّهِ ‌بْنُ ‌مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَخْرُجُ الإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَنَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ‏.‏
ہم ‌سے ​عبداللہ ‌بن ‌مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، وہ امام مالک رحمہ اللہ علیہ سے، انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا، انہوں نے فرمایا کہ ہم عصر کی نماز پڑھ چکتے اور اس کے بعد کوئی بنی عمرو بن عوف ( قباء ) کی مسجد میں جاتا تو ان کو وہاں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا۔
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۴۸ Sahih
صحیح بخاری : ۱۷۲
ابوبکر بن عثمان بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌ابْنُ ​مُقَاتِلٍ، ‌قَالَ ​أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَقُلْتُ يَا عَمِّ، مَا هَذِهِ الصَّلاَةُ الَّتِي صَلَّيْتَ قَالَ الْعَصْرُ، وَهَذِهِ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ‏.‏
ہم ‌سے ​محمد ‌بن ​مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں ابوبکر بن عثمان بن سہل بن حنیف نے خبر دی، انہوں نے کہا میں نے ابوامامہ (سعد بن سہل) سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر ہم نکل کر انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا آپ نماز پڑھ رہے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ اے مکرم چچا! یہ کون سی نماز آپ نے پڑھی ہے۔ فرمایا کہ عصر کی اور اسی وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی یہ نماز پڑھتے تھے۔
ابوبکر بن عثمان بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۴۹ Sahih
صحیح بخاری : ۱۷۳
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ​الْيَمَانِ، ​قَالَ ‌أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، وَبَعْضُ الْعَوَالِي مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَمْيَالٍ أَوْ نَحْوِهِ‏.‏
ہم ‌سے ​ابوالیمان ​حکم ‌بن نافع نے بیان کیا کہ کہا ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز پڑھتے تو سورج بلند اور تیز روشن ہوتا تھا۔ پھر ایک شخص مدینہ کے بالائی علاقہ کی طرف جاتا وہاں پہنچنے کے بعد بھی سورج بلند رہتا تھا ( زہری نے کہا کہ ) مدینہ کے بالائی علاقہ کے بعض مقامات تقریباً چار میل پر یا کچھ ایسے ہی واقع ہیں۔
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۵۰ Sahih
صحیح بخاری : ۱۷۴
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​عَبْدُ ‌اللَّهِ ‌بْنُ ‌يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الَّذِي تَفُوتُهُ صَلاَةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ‌عبداللہ ‌بن ‌یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک نے نافع کے ذریعہ سے خبر پہنچائی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس کی نماز عصر چھوٹ گئی گویا اس کا گھر اور مال سب لٹ گیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سورۃ محمد میں جو «يترکم» کا لفظ آیا ہے وہ «وتر» سے نکالا گیا ہے۔ «وتر» کہتے ہیں کسی شخص کا کوئی آدمی مار ڈالنا یا اس کا مال چھین لینا۔
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۵۲ Sahih
صحیح بخاری : ۱۷۵
ابو الملیح رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​مُسْلِمُ ‌بْنُ ‌إِبْرَاهِيمَ، ​قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ فِي غَزْوَةٍ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ فَقَالَ بَكِّرُوا بِصَلاَةِ الْعَصْرِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَرَكَ صَلاَةَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ‌مسلم ‌بن ​ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عبداللہ دستوائی نے بیان کیا، کہا ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے خبر دی۔ انہوں نے ابوالملیح سے، کہا ہم بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک سفر جنگ میں تھے۔ ابر و بارش کا دن تھا۔ آپ نے فرمایا کہ عصر کی نماز جلدی پڑھ لو۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا نیک عمل ضائع ہو گیا۔
ابو الملیح رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۵۳ Sahih
صحیح بخاری : ۱۷۶
قیس رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​الْحُمَيْدِيُّ، ‌قَالَ ​حَدَّثَنَا ‌مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةً ـ يَعْنِي الْبَدْرَ ـ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لاَ تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَ تُغْلَبُوا عَلَى صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ‏}‏‏.‏ قَالَ إِسْمَاعِيلُ افْعَلُوا لاَ تَفُوتَنَّكُمْ‏.‏
ہم ​سے ‌عبداللہ ​بن ‌زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ نے، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے۔ انہوں نے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند پر ایک نظر ڈالی پھر فرمایا کہ تم اپنے رب کو ( آخرت میں ) اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو اب دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے میں تم کو کوئی زحمت بھی نہیں ہو گی، پس اگر تم ایسا کر سکتے ہو کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے والی نماز ( فجر ) اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز ( عصر ) سے تمہیں کوئی چیز روک نہ سکے تو ایسا ضرور کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ ”پس اپنے مالک کی حمد و تسبیح کر سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے سے پہلے۔“ اسماعیل ( راوی حدیث ) نے کہا کہ ( عصر اور فجر کی نمازیں ) تم سے چھوٹنے نہ پائیں۔ ان کا ہمیشہ خاص طور پر دھیان رکھو۔
قیس رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۵۴ Sahih
صحیح بخاری : ۱۷۷
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​عَبْدُ ‌اللَّهِ ​بْنُ ​يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلاَئِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ وَصَلاَةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ وَهْوَ أَعْلَمُ بِهِمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ‌عبداللہ ​بن ​یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے ابوالزناد عبداللہ بن ذکوان سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات اور دن میں فرشتوں کی ڈیوٹیاں بدلتی رہتی ہیں۔ اور فجر اور عصر کی نمازوں میں ( ڈیوٹی پر آنے والوں اور رخصت پانے والوں کا ) اجتماع ہوتا ہے۔ پھر تمہارے پاس رہنے والے فرشتے جب اوپر چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہت زیادہ اپنے بندوں کے متعلق جانتا ہے، کہ میرے بندوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا۔ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نے جب انہیں چھوڑا تو وہ ( فجر کی ) نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تب بھی وہ ( عصر کی ) نماز پڑھ رہے تھے۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۵۵ Sahih
صحیح بخاری : ۱۷۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​أَبُو ​نُعَيْمٍ، ‌قَالَ ‌حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ سَجْدَةً مِنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلاَتَهُ، وَإِذَا أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلاَتَهُ ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ​ابونعیم ‌نے ‌بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر عصر کی نماز کی ایک رکعت بھی کوئی شخص سورج غروب ہونے سے پہلے پا سکا تو پوری نماز پڑھے ( اس کی نماز ادا ہوئی نہ قضاء ) اسی طرح اگر سورج طلوع ہونے سے پہلے فجر کی نماز کی ایک رکعت بھی پا سکے تو پوری نماز پڑھے۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۵۶ Sahih
صحیح بخاری : ۱۷۹
سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​عَبْدُ ​الْعَزِيزِ ‌بْنُ ​عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَا سَلَفَ قَبْلَكُمْ مِنَ الأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلاَةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، أُوتِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، ثُمَّ أُوتِيَ أَهْلُ الإِنْجِيلِ الإِنْجِيلَ فَعَمِلُوا إِلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، ثُمَّ أُوتِينَا الْقُرْآنَ فَعَمِلْنَا إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، فَأُعْطِينَا قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، فَقَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ أَىْ رَبَّنَا أَعْطَيْتَ هَؤُلاَءِ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، وَأَعْطَيْتَنَا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، وَنَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلاً، قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ مِنْ شَىْءٍ قَالُوا لاَ، قَالَ فَهْوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ​عبدالعزیز ‌بن ​عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تم سے پہلے کی امتوں کے مقابلہ میں تمہاری زندگی صرف اتنی ہے جتنا عصر سے سورج ڈوبنے تک کا وقت ہوتا ہے۔ توراۃ والوں کو توراۃ دی گئی۔ تو انہوں نے اس پر ( صبح سے ) عمل کیا۔ آدھے دن تک پھر وہ عاجز آ گئے، کام پورا نہ کر سکے، ان لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر انجیل والوں کو انجیل دی گئی، انہوں نے ( آدھے دن سے ) عصر تک اس پر عمل کیا، اور وہ بھی عاجز آ گئے۔ ان کو بھی ایک ایک قیراط ان کے عمل کا بدلہ دیا گیا۔ پھر ( عصر کے وقت ) ہم کو قرآن ملا۔ ہم نے اس پر سورج کے غروب ہونے تک عمل کیا ( اور کام پورا کر دیا ) ہمیں دو دو قیراط ثواب ملا۔ اس پر ان دونوں کتاب والوں نے کہا۔ اے ہمارے پروردگار! انہیں تو آپ نے دو دو قیراط دئیے اور ہمیں صرف ایک ایک قیراط۔ حالانکہ عمل ہم نے ان سے زیادہ کیا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا، تو کیا میں نے اجر دینے میں تم پر کچھ ظلم کیا۔ انہوں نے عرض کی کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ ( زیادہ اجر دینا ) میرا فضل ہے جسے میں چاہوں دے سکتا ہوں۔
سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۵۵۷ Sahih
صحیح بخاری : ۱۸۰
ابو موسی اشعری (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​أَبُو ​كُرَيْبٍ، ​قَالَ ‌حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ قَوْمًا يَعْمَلُونَ لَهُ عَمَلاً إِلَى اللَّيْلِ، فَعَمِلُوا إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ، فَقَالُوا لاَ حَاجَةَ لَنَا إِلَى أَجْرِكَ، فَاسْتَأْجَرَ آخَرِينَ فَقَالَ أَكْمِلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ، وَلَكُمُ الَّذِي شَرَطْتُ، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا كَانَ حِينَ صَلاَةِ الْعَصْرِ قَالُوا لَكَ مَا عَمِلْنَا‏.‏ فَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا فَعَمِلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، وَاسْتَكْمَلُوا أَجْرَ الْفَرِيقَيْنِ ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ​ابوکریب ​محمد ‌بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے برید بن عبداللہ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوبردہ عامر بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوموسیٰ اشعری عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں اور یہود و نصاری کی مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے کہ جس نے کچھ لوگوں سے مزدوری پر رات تک کام کرنے کے لیے کہا۔ انہوں نے آدھے دن کام کیا۔ پھر جواب دے دیا کہ ہمیں تمہاری اجرت کی ضرورت نہیں، ( یہ یہود تھے ) پھر اس شخص نے دوسرے مزدور بلائے اور ان سے کہا کہ دن کا جو حصہ باقی بچ گیا ہے ( یعنی آدھا دن ) اسی کو پورا کر دو۔ شرط کے مطابق مزدوری تمہیں ملے گی۔ انہوں نے بھی کام شروع کیا لیکن عصر تک وہ بھی جواب دے بیٹھے۔ ( یہ نصاریٰ تھے ) پس اس تیسرے گروہ نے ( جو اہل اسلام ہیں ) پہلے دو گروہوں کے کام کی پوری مزدوری لے لی۔
ابو موسی اشعری (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۵۵۸ Sahih