جامع ترمذی — حدیث #۲۶۸۳۷
حدیث #۲۶۸۳۷
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ جَحْلٍ، عَنْ حُجْرٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعُمَرَ
" إِنَّا قَدْ أَخَذْنَا زَكَاةَ الْعَبَّاسِ عَامَ الأَوَّلِ لِلْعَامِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى لاَ أَعْرِفُ حَدِيثَ تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَحَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَكَرِيَّا عَنِ الْحَجَّاجِ عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً . وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ قَبْلَ مَحِلِّهَا فَرَأَى طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لاَ يُعَجِّلَهَا . وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ قَالَ أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ لاَ يُعَجِّلَهَا . وَقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنْ عَجَّلَهَا قَبْلَ مَحِلِّهَا أَجْزَأَتْ عَنْهُ . وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
ہم سے القاسم بن دینار الکوفی نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، وہ بنی اسرائیل کے واسطہ سے، وہ الحجاج بن دینار نے، وہ الحکم بن جہل سے، وہ حجر العدوی سے، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہم نے زکوٰۃ کی دعا مانگی۔ سال کے پہلے سال میں العباس سے۔ انہوں نے کہا اور ابن عباس کی سند کے باب میں۔ ابو عیسیٰ نے کہا کہ مجھے حجاج بن دینار کی حدیث سے زکوٰۃ میں جلدی کرنے والی حدیث کا علم نہیں ہے سوائے اس نقطہ نظر سے اسماعیل بن زکریا کی حدیث حجاج کی سند سے میری نظر میں حجاج بن دینار کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ یہ حدیث حاکم بن عتیبہ کی سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل کی روایت سے مروی ہے۔ اہل علم کا زکوٰۃ کے واجب ہونے سے پہلے جلدی کرنے میں اختلاف ہے۔ اہل علم کی ایک جماعت نے سوچا کہ اسے جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ سفیان الثوری کہتے ہیں۔ اس نے کہا میں اس بات کو ترجیح دیتا ہوں کہ وہ جلدی نہ کرے۔ اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ اگر وہ واجب ہونے سے پہلے جلدی کرے تو یہ اس کے لیے کافی ہے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق کہتے ہیں۔
راوی
علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
جامع ترمذی # ۷/۶۷۹
درجہ
Hasan
زمرہ
باب ۷: زکوٰۃ