اللولو والمرجان — حدیث #۳۶۸۷۲

حدیث #۳۶۸۷۲
قال: كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض أسفاره. قال (ربيع) عبد الله، أظنه (أبو بشير الأنصاري) قال إن الناس كانوا في الفراش. ثم بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمر ألا يعلق في عنق بعير إكليل ولا عقد، فإن كان كذلك فقطعه. (في الجاهلية كان يُعلق في عنق البعير نوع من الإكليل لكي لا يُرى البعير، وقد أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بهذا الأمر لإزالة هذا الشبه.) (البخاري جزء 56 باب 139 حديث رقم 3005، مسلم 28/37 ه 2115).
انہوں نے کہا کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ (ربیع) عبداللہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے (ابو بشیر انصاری) کہا کہ لوگ بستر پر تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ کسی اونٹ کے گلے میں مالا یا کمان کا تار نہ لٹکایا جائے اور اگر ایسا ہو تو اسے کاٹ دیا جائے۔ (جاہلی دور میں اونٹ کی گردن میں ایک قسم کی مالا لٹکائی جاتی تھی تاکہ اونٹ نظر نہ آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے یہ ہدایت فرمائی۔) (بخاری حصہ 56 باب 139 حدیث نمبر 1208، مسلم 1508)
راوی
ابو بشیر الانصاری رضی اللہ عنہ
ماخذ
اللولو والمرجان # ۱۳۷۲
درجہ
Sahih
زمرہ
باب : باب ۳۷
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Charity #Mother

متعلقہ احادیث