مشکوٰۃ المصابیح — حدیث #۴۸۷۳۴
حدیث #۴۸۷۳۴
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ» . قَالَ: فَقُلْتُ: ذَلِكَ لِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ فَقَالَ: «أَجَلْ» . ثُمَّ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا»
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کی طبیعت ناساز تھی، تو میں نے اپنے ہاتھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی طبیعت ناساز ہے۔ بہت بیمار۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں تم میں سے دو آدمیوں کی وجہ سے کمزوری محسوس کر رہا ہوں۔ اس نے کہا: تو میں نے کہا: کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے پاس دو انعامات ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ پھر فرمایا: ’’کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے جسے کوئی تکلیف پہنچتی ہو، خواہ بیماری ہو یا کوئی اور، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے گناہ اس طرح مٹا دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتے جھاڑتا ہے۔‘‘
راوی
ابن مسعود (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
مشکوٰۃ المصابیح # ۵/۱۵۳۸
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۵: باب ۵