مشکوٰۃ المصابیح — حدیث #۵۱۸۷۹
حدیث #۵۱۸۷۹
وَعَن عديِّ بن حاتمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَا مِنْكُم أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ وَلَا حِجَابٌ يَحْجُبُهُ فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلِهِ وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَة» . مُتَّفق عَلَيْهِ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ اس سے اس کا رب کلام کرے، اس کے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان یا پردہ نہ ہو“۔ وہ اس پر پردہ ڈالتا ہے اور اس سے زیادہ درست نظر آتا ہے، اس لیے اسے اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا جو اس نے اس سے آگے کیا ہے، اور اسے اس سے زیادہ مشکل نظر آتی ہے، اس لیے اسے کچھ نہیں نظر آتا مگر وہ جو اس نے پہلے کیا اور دیکھا۔ اس کے سامنے اسے آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا، اس لیے جہنم سے بچو، خواہ نصف تاریخ ہی کیوں نہ ہو۔ اتفاق کیا
ماخذ
مشکوٰۃ المصابیح # ۲۸/۵۵۵۰
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۸: باب ۲۸