جامع ترمذی — حدیث #۲۷۳۵۸

حدیث #۲۷۳۵۸
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، أَنَّ سَلْمَانَ بْنَ صَخْرٍ الأَنْصَارِيَّ، أَحَدَ بَنِي بَيَاضَةَ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ حَتَّى يَمْضِيَ رَمَضَانُ فَلَمَّا مَضَى نِصْفٌ مِنْ رَمَضَانَ وَقَعَ عَلَيْهَا لَيْلاً فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَعْتِقْ رَقَبَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ أَجِدُهَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ أَسْتَطِيعُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ أَجِدُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِفَرْوَةَ بْنِ عَمْرٍو ‏"‏ أَعْطِهِ ذَلِكَ الْعَرَقَ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ مِكْتَلٌ يَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ صَاعًا فَقَالَ ‏"‏ أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ يُقَالُ سَلْمَانُ بْنُ صَخْرٍ وَيُقَالُ سَلَمَةُ بْنُ صَخْرٍ الْبَيَاضِيُّ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ ‏.‏
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ہارون بن اسماعیل الخزاز نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن المبارک نے بیان کیا، انہیں یحییٰ بن ابو کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ہم کو محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان نے خبر دی کہ سلمان بن صخر الانصاری نے جو بنو بیادہ میں سے تھے۔ اس کی بیوی اس پر ماں کی پیٹھ کی طرح رہتی ہے یہاں تک کہ رمضان گزر جائے۔ جب نصف رمضان گزر گیا تو اس نے رات کو اس سے مباشرت کی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ذکر کیا کہ یہ اس کے لیے ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام آزاد کرو۔ اس نے کہا، "مجھے ایک نہیں مل سکتا۔" آپ نے فرمایا پھر دو مہینے لگاتار روزے رکھو۔ اس نے کہا میں نہیں کر سکتا۔ آپ نے فرمایا: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ اس نے کہا میں نہیں کر سکتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فروا بن عمرو سے فرمایا: ”اسے پسینہ دو۔ وہ مقاتل تھا اور پندرہ یا سولہ صاع کھاتا تھا تو فرمایا ساٹھ کھلاؤ۔ غریب چیز۔" اس نے کہا ابو عیسیٰ یہ حدیث حسن ہے۔ کہا جاتا ہے : سلمان بن صخر ، اور کہا جاتا ہے : سلمہ بن صخر البیضی ۔ اس حدیث پر اس وقت عمل ہوتا ہے جب اہل علم ظہار کے کفارہ کے بارے میں کہتے ہیں۔
راوی
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ
ماخذ
جامع ترمذی # ۱۳/۱۲۰۰
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۳: طلاق اور لعان
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث

متعلقہ احادیث