بلغ المرام — حدیث #۵۳۱۵۷
حدیث #۵۳۱۵۷
عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهُمَا- { أَنَّ اِمْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتْ اَلنَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم -فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اَللَّهِ ! ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعِيبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ , وَلَكِنِّي أَكْرَهُ اَلْكُفْرَ فِي اَلْإِسْلَامِ , قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -" أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ? " , قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -" اِقْبَلِ اَلْحَدِيقَةَ , وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً } رَوَاهُ اَلْبُخَارِيُّ .
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی ہوں - کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: یا رسول اللہ! میں ثابت بن قیس کے کردار یا مذہب میں عیب نہیں پاتا، لیکن مجھے اسلام میں کفر سے نفرت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اسے رد کرنا چاہتے ہو؟ کیا اس پر کوئی باغ ہے؟ کہنے لگی: ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باغ کو قبول کرو اور اسے ایک بار طلاق دو۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔
راوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
ماخذ
بلغ المرام # ۸/۱۰۶۵
زمرہ
باب ۸: باب ۸