سنن نسائی — حدیث #۲۲۰۱۱

حدیث #۲۲۰۱۱
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ تُصَلُّونَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهَا بَعَثَهَا فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَيَقُولُ ‏"‏ ‏{‏ وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلاً ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور فاطمہ کو ( دروازہ کھٹکھٹا کر ) بیدار کیا، اور فرمایا: کیا تم نماز نہیں پڑھو گے؟ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری جانیں تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ انہیں اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا، جب میں نے آپ سے یہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ پڑے، پھر میں نے آپ کو سنا، آپ پیٹھ پھیر کر جا رہے تھے اور اپنی ران پر ( ہاتھ ) مار کر فرما رہے تھے: «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا» انسان بہت حجتی ہے ۔
راوی
علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن نسائی # ۲۰/۱۶۱۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۰: قیام اللیل
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث