سنن نسائی — حدیث #۲۲۹۴۱
حدیث #۲۲۹۴۱
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ أَزْوَاجَ، النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اجْتَمَعْنَ عِنْدَهُ فَقُلْنَ أَيَّتُنَا بِكَ أَسْرَعُ لُحُوقًا فَقَالَ
" أَطْوَلُكُنَّ يَدًا " . فَأَخَذْنَ قَصَبَةً فَجَعَلْنَ يَذْرَعْنَهَا فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَسْرَعَهُنَّ بِهِ لُحُوقًا فَكَانَتْ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا فَكَانَ ذَلِكَ مِنْ كَثْرَةِ الصَّدَقَةِ .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محترم بیویاں ( ازواج مطہرات ) آپ کے پاس اکٹھا ہوئیں، اور پوچھنے لگیں کہ ہم میں کون آپ سے پہلے ملے گی؟ آپ نے فرمایا: ”تم میں سب سے لمبے ہاتھ والی“، ازواج مطہرات ایک بانس کی کھپچی لے کر ایک دوسرے کا ہاتھ ناپنے لگیں، تو وہ ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا تھیں جو سب سے پہلے آپ سے ملیں، وہی سب میں لمبے ہاتھ والی تھیں، یہ ان کے بہت زیادہ صدقہ و خیرات کرنے کی وجہ سے تھا ۱؎۔
راوی
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
ماخذ
سنن نسائی # ۲۳/۲۵۴۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۳: زکوٰۃ