سنن نسائی — حدیث #۲۳۴۰۰
حدیث #۲۳۴۰۰
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُلاَئِيُّ، - يَعْنِي أَبَا نُعَيْمٍ الْفَضْلَ بْنَ دُكَيْنٍ - قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ وَنَحْنُ غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي التَّلْبِيَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْيَوْمِ قَالَ كَانَ الْمُلَبِّي يُلَبِّي فَلاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ فَلاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ .
محمد بن ابی بکر ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور ہم منیٰ سے عرفات جا رہے تھے کہ آج کے دن آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے ) کس طرح تلبیہ پکارتے تھے، تو انہوں نے کہا: تلبیہ پکارنے والا تلبیہ پکارتا تو اس پر کوئی نکیر نہیں کی جاتی تھی، اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا تھا، تو اس پر بھی کوئی نکیر نہیں کی جاتی تھی۔
راوی
محمد بن ابی بکر ثقفی رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن نسائی # ۲۴/۳۰۰۰
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۴: حج
موضوعات:
#Quran