سنن نسائی — حدیث #۲۳۴۲۰
حدیث #۲۳۴۲۰
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَكَانَ، رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا " عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ " . وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى قَالَ " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ " . فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ .
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اور مزدلفہ کی صبح کو اپنی اونٹنی روک کر لوگوں سے فرمایا: ”اطمینان و وقار کو لازم پکڑو“ یہاں تک کہ جب آپ وادی محسر میں داخل ہوئے، اور وہ منیٰ کا ایک حصہ ہے، تو فرمایا: ”چھوٹی چھوٹی کنکریاں چن لو جسے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان رکھ کر مارا جا سکے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر تلبیہ پکارتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
راوی
It was narrated from Al-Fadl bin Abbas, who rode behind the Messenger of Allah, that
ماخذ
سنن نسائی # ۲۴/۳۰۲۰
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۴: حج
موضوعات:
#Quran