سنن نسائی — حدیث #۲۳۸۵۰
حدیث #۲۳۸۵۰
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ، بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطُوا وَلاَءَهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " . وَأُتِيَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ إِنَّ هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ . فَقَالَ " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " . وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے ولاء ( میراث ) خود لینے کی شرط رکھی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے خرید لو اور آزاد کر دو کیونکہ ولاء ( میراث ) آزاد کرنے والے کا حق ہے ۱؎، اور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانے کے لیے ) گوشت لایا گیا اور بتا بھی دیا گیا کہ یہ اس گوشت میں سے ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں دیا گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے لیے صدقہ ہے، ہمارے لیے تو ہدیہ و تحفہ ہے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( یعنی بریرہ کو ) اختیار دیا، بریرہ کا شوہر آزاد شخص تھا۔
راوی
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
ماخذ
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۵۰
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۷: طلاق