سنن نسائی — حدیث #۲۳۸۷۶
حدیث #۲۳۸۷۶
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْمُتَلاَعِنَيْنِ " حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ وَلاَ سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي قَالَ " لاَ مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ " .
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کرنے والوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں سے کہا: تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ تم میں سے کوئی ایک ضرور جھوٹا ہے، ( مرد سے کہا: ) تمہارا اب اس ( عورت ) پر کچھ حق و اختیار نہیں ہے ۱؎، مرد نے کہا: اللہ کے رسول! میرے مال کا کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کوئی مال نہیں ہے۔ اگر تم نے اس پر صحیح تہمت لگائی ہے تو تم نے اب تک اس کی شرمگاہ سے حلت کا جو فائدہ حاصل کیا ہے وہ مال اس کا بدل ہو گیا اور اگر تم نے اس عورت پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو یہ تو تمہارے لیے اور بھی غیر مناسب ہے“ ۲؎۔
راوی
عمرو رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۷۶
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۷: طلاق