سنن نسائی — حدیث #۲۳۹۰۲

حدیث #۲۳۹۰۲
أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ الأَنْصَارِيِّ، - وَجَدُّهُ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتَا جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَإِنِّي أَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا أَفَأَكْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَجْلِسُ حَوْلاً وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا كَانَ الْحَوْلُ خَرَجَتْ وَرَمَتْ وَرَاءَهَا بِبَعْرَةٍ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری بیٹی کے شوہر ( یعنی میرے داماد ) کا انتقال ہو گیا ہے اور مجھے ( عدت میں بیٹھی ) بیٹی کی آنکھ کے خراب ہو جانے کا خوف ہے تو میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں ( سوگ منانے والی ) عورت زمانہ جاہلیت میں سال بھر بیٹھی رہتی تھی، اور یہ تو چار مہینہ دس دن کی بات ہے، جب سال پورا ہو جاتا تو وہ باہر نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی“۔
راوی
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا
ماخذ
سنن نسائی # ۲۷/۳۵۰۲
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۷: طلاق
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother #Marriage #Death

متعلقہ احادیث