سنن نسائی — حدیث #۲۴۰۳۵
حدیث #۲۴۰۳۵
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَاءَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِي وَلَدٌ إِلاَّ ابْنَةٌ وَاحِدَةٌ فَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ ". قَالَ فَأُوصِي بِنِصْفِهِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ ". قَالَ فَأُوصِي بِثُلُثِهِ قَالَ " الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ".
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ بیمار تھے، انہوں نے آپ سے عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) میری کوئی اولاد ( نرینہ ) نہیں ہے، صرف ایک بچی ہے۔ میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دیتا ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: آدھے کی وصیت کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: تو میں ایک تہائی مال کی وصیت کرتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی کر دو اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے“۔
راوی
محمد بن سعد رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن نسائی # ۳۰/۳۶۳۵
درجہ
Sahih Isnaad
زمرہ
باب ۳۰: وصیت