دعائیں

جنات اور جادو سے حفاظت کی آیات

۲۳ دعائیں
۱

سورہ بقرہ آیت نمبر 266

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنۡ تَكُوۡنَ لَہٗ جَنَّۃٌ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ ۙ لَہٗ فِیۡہَا مِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۙ وَاَصَابَہُ الْکِبَرُ وَلَہٗ ذُرِّیَّۃٌ ضُعَفَآءُ ۪ۖ فَاَصَابَہَاۤ اِعْصَارٌ فِیۡہِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللہُ لَكُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۶۶﴾
ترجمہ

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو، جس کے دامن میں نہریں بہتی ہوں (اور) اس سے وہ طرح طرح کے پھل حاصل کرے، پھر اس حالت میں وہ بوڑھا ہو جائے اور اس کے بچے کمزور ہوں؟ کیا اچانک آگ کا طوفان باغ سے ٹکرائے گا، جس سے پورا باغ جل جائے گا؟ 204 اسی طرح اللہ تم پر اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو۔

سورہ بقرہ آیت نمبر 266
۲

سورہ آل عمران آیت نمبر 181

لَقَدۡ سَمِعَ اللّٰہُ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیۡرٌ وَّنَحۡنُ اَغۡنِیَآءُ ۘ سَنَکۡتُبُ مَا قَالُوۡا وَقَتۡلَہُمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ۙ وَّنَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ
ترجمہ

اللہ نے ان لوگوں کو سنا ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ محتاج ہے اور ہم بے نیاز ہیں۔ میں ان کے کہنے اور انبیاء کے ناحق قتل کو لکھوں گا اور کہوں گا کہ تم جلنے کا عذاب سہو گے۔

سورہ آل عمران آیت نمبر 181
۳

سورہ مائدہ آیت نمبر 37

یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنَ النَّارِ وَمَا ہُمۡ بِخٰرِجِیۡنَ مِنۡہَا ۫ وَلَہُمۡ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ
ترجمہ

وہ جہنم کی آگ سے نکلنا چاہیں گے لیکن اس سے نکل نہیں سکیں گے۔ وہ ابدی سزا بھگتیں گے۔

سورہ مائدہ آیت نمبر 37
۴

سورۃ الانعام آیت نمبر 128

وَیَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ۚ یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَکۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ ۚ وَقَالَ اَوۡلِیٰٓؤُہُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ وَّبَلَغۡنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیۡۤ اَجَّلۡتَ لَنَا ؕ قَالَ النَّارُ مَثۡوٰىکُمۡ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ
ترجمہ

جس دن وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا اور کہے گا کہ اے جنوں! تو نے بہت سے لوگوں کو اپنا پیرو بنا لیا اور لوگوں میں سے ان کے دوست کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہم میں سے کچھ نے دوسروں سے فائدہ اٹھایا اور آپ ہمارے لیے ہیں۔ آپ نے ایک وقت مقرر کیا ہے، اب ہم اس تک پہنچ چکے ہیں۔' اس دن اللہ فرمائے گا کہ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے، تم اس میں ہمیشہ رہو گے، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ نہ چاہے۔ بیشک تمہارا رب حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

سورۃ الانعام آیت نمبر 128
۵

سورہ انفال آیت نمبر 50

وَلَوۡ تَرٰۤی اِذۡ یَتَوَفَّی الَّذِیۡنَ کَفَرُوا ۙ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡہَہُمۡ وَاَدۡبَارَہُمۡ ۚ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ
ترجمہ

اور اگر تم دیکھو کہ جب فرشتے کافروں کی روحوں کو مسحور کرتے ہیں۔ انہیں مارو، ان کے چہروں پر اور ان کی پیٹھوں پر، اور کہو کہ آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔

سورہ انفال آیت نمبر 50
۶

سورہ ابراہیم (آیت 15-17)

{وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ (15) مِنْ وَرَائِهِ جَهَنَّمُ وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ (16) يَتَجَرَّعُهُ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍ وَمِنْ وَرَائِهِ عَذَابٌ غَلِيظٌ (17)} [إبراهيم: 15 - 17]
ترجمہ

وہ فتح چاہتے تھے، اور ہر مغرور مطلق العنان ناکامی کا خواہاں تھا۔ ان میں سے ہر ایک آخر میں جہنم ہے اور اسے پگھلی ہوئی پیپ پلائی جائے گی۔ جسے وہ بڑی مشکل سے نگل لیتا، اور نگلنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ ہر طرف سے اس کا موت کا عذاب آئے گا مگر وہ مرے گا نہیں اور اس کے بعد بھی سخت عذاب میں مبتلا رہے گا۔

سورہ ابراہیم (آیت 15-17)
۷

سورہ ابراہیم آیت نمبر 49-50

{وَتَرَى الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ (49) سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَى وُجُوهَهُمُ النَّارُ (50)} [إبراهيم: 49، 50]
ترجمہ

اس دن تم مجرموں کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے دیکھو گے، ان کے کپڑے تارکول جل رہے ہوں گے اور ان کے چہرے آگ سے ڈھکے ہوئے ہوں گے۔

سورہ ابراہیم آیت نمبر 49-50
۸

سورہ مریم آیت نمبر 4

قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ وَہَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّیۡ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَیۡبًا وَّلَمۡ اَکُنۡۢ بِدُعَآئِکَ رَبِّ شَقِیًّا
ترجمہ

اس نے کہا اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور ہیں، میرا سر بڑھاپے سے سفید ہو گیا ہے۔ اے میرے رب! میں آپ کو کال کرنے میں کبھی ناکام نہیں رہا۔

سورہ مریم آیت نمبر 4
۹

سورہ طہ آیت نمبر 97

{قَالَ فَاذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِي الْحَيَاةِ أَنْ تَقُولَ لَا مِسَاسَ وَإِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَنْ تُخْلَفَهُ وَانْظُرْ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا لَنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسْفًا (97)} [طه: 97]
ترجمہ

موسیٰ نے کہا: چلے جاؤ، کیونکہ تمہیں ساری زندگی سزا ملے گی، جو تم کہتے ہو۔ مجھے مت چھونا، اور تمہارے لیے ایک خاص وعدہ ہے، جس میں کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ اپنے خدا کی طرف توجہ کرو جس سے تم اپنے آپ کو گھیر لیتے ہو۔ ہم اسے جلا دیں گے۔ پھر یہ میں اسے سمندر میں بکھیر دوں گا۔

سورہ طہ آیت نمبر 97
۱۰

سورہ انبیاء آیت نمبر 35

{كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ (35)} [الأنبياء: 35]
ترجمہ

صرف جاندار ہی موت کا مزہ چکھیں گے۔ میں تمہیں خاص طور پر برائی اور بھلائی سے آزماتا ہوں اور تم میری طرف لوٹائے جاؤ گے۔

سورہ انبیاء آیت نمبر 35
۱۱

سورہ حجاب آیت 19-22

ہٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوۡا فِیۡ رَبِّہِمْ ۫ فَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا قُطِّعَتْ لَہُمْ ثِیَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ؕ یُصَبُّ مِنۡ فَوْقِ رُءُوۡسِہِمُ الْحَمِیۡمُ (19) يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ (20) وَلَهُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ (21) كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ (22)} [الحج: 19 - 22]
ترجمہ

یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ کافروں کے لیے آگ کے کپڑے تیار کیے گئے ہیں، ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا، جس سے ان کے پیٹ اور ان کی کھالیں پگھل جائیں گی۔ اور ان کا کوئی لوہار ہو گا۔ جب بھی وہ دردناک حالت میں جہنم سے نکلنا چاہیں گے، اسی میں لوٹائے جائیں گے۔ ان سے کہا جائے گا کہ جلتی ہوئی تکلیف کا مزہ چکھو۔

سورہ حجاب آیت 19-22
۱۲

سورہ عنکبوت آیت نمبر 24

{فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنْجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (24)} [العنكبوت: 24]
ترجمہ

جواب میں قوم ابراہیم نے صرف اتنا کہا کہ اسے مار ڈالو یا جلا دو۔ لیکن خدا نے اسے آگ سے بچا لیا۔ یقیناً اس میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں ہیں۔

سورہ عنکبوت آیت نمبر 24
۱۳

سورہ فاطر (آیت نمبر 36-37)

{وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا كَذَلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ (36) وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ نَصِيرٍ (37)} [فاطر: 36، 37]
ترجمہ

لیکن کافروں کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ ان کی موت کا حکم نہیں دیا جائے گا کہ وہ مر جائیں اور ان سے جہنم کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی۔ اس طرح میں ہر ناشکرے کو سزا دیتا ہوں۔ وہاں وہ روئیں گے اور کہیں گے کہ ارے! اے ہمارے رب! ہمیں نجات دے، ہم اچھے کام کریں گے، وہ نہیں کریں گے جو ہم کرتے تھے۔ اللہ فرمائے گا کیا میں نے تجھے اتنی لمبی عمر نہیں دی کہ جو چاہے احتیاط کرے تمہارے پاس خبردار کرنے والا آیا ہے۔ تو سزا اسے چکھو؛ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

سورہ فاطر (آیت نمبر 36-37)
۱۴

سورہ شفاء آیت نمبر 7-10

{وَحِفْظًا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ مَارِدٍ (7) لَا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَى وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ (8) دُحُورًا وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ (9) إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ (10)} [الصافات: 7 - 10]
ترجمہ

اور ہر سرکش شیطان سے بچایا۔ نتیجے کے طور پر، وہ اوپری دنیا سے کچھ نہیں سن سکتے ہیں اور ہر طرف سے ان پر پھینک دیا جاتا ہے - پسپائی کے لئے اور ان کے لئے لامتناہی عذاب ہے. لیکن اگر کوئی اچانک کچھ سنتا ہے، تو یہ ایک آتش شہوت انگیز الکا ہے۔ تعاقب کرنا

سورہ شفاء آیت نمبر 7-10
۱۵

سورہ دخان آیت نمبر 43-50

{إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ (43) طَعَامُ الْأَثِيمِ (44) كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ (45) كَغَلْيِ الْحَمِيمِ (46) خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ (47) ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ (48) ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ (49) إِنَّ هَذَا مَا كُنْتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ (50)} [الدخان: 43 - 50]
ترجمہ

یقیناً یقوم کا درخت (جس کا ذکر سورۃ الشفاء میں کیا گیا ہے) بڑے گنہگار (یعنی کافر) کا کھانا ہو گا، جو تیل کی تہہ کی طرح ہو گا اور کھولتے ہوئے پانی کی طرح ابلتا رہے گا۔ فرشتوں کو (حکم دیا جائے گا) کہ پکڑو اور کھینچو اسے جہنم کے بیچ میں لے جاو، پھر اس کے سر پر دردناک کھولتا ہوا پانی ڈالو۔ (اس بار اسے طنزیہ کہا جائے گا) ذائقہ تم بہت عزت دار، شریف ہو۔ (یہ آپ کی عزت ہے، جیسا کہ آپ دنیا میں معزز اور معزز ہیں میرے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے شرم محسوس کرنا۔ اہل جہنم سے کہا جائے گا۔

سورہ دخان آیت نمبر 43-50
۱۶

سورۃ الواقبیہ آیت نمبر 51-55

ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّہَا الضَّآلُّوۡنَ الْمُکَذِّبُوۡنَ ﴿ۙ۵۱﴾ لَاٰکِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾ فَمَالِـُٔوۡنَ مِنْہَا الْبُطُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾ فَشٰرِبُوۡنَ عَلَیۡہِ مِنَ الْحَمِیۡمِ ﴿ۚ۵۴﴾ فَشٰرِبُوۡنَ شُرْبَ الْہِیۡمِ ﴿ؕ۵۵﴾
ترجمہ

پھر (یعنی جمع ہونے کے بعد) اے گمراہ، جھوٹے! تم جہقم کے درخت کا پھل ضرور کھاؤ، پھر اس سے اپنا پیٹ بھرو۔ اس پر پانی ابال کر پی لیں۔ تم پیاسے اونٹ کی طرح پیو گے۔ (خلاصہ یہ کہ) یہ قیامت کا دن ہوگا۔ ان کی تفریح.

سورۃ الواقبیہ آیت نمبر 51-55
۱۷

سورہ ملک آیت نمبر 5-9

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیۡحَ وَ جَعَلْنٰہَا رُجُوۡمًا لِّلشَّیٰطِیۡنِ وَ اَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابَ السَّعِیۡرِ ﴿۵﴾ وَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیۡرُ ﴿۶﴾ اِذَاۤ اُلْقُوۡا فِیۡہَا سَمِعُوۡا لَہَا شَہِیۡقًا وَّ ہِیَ تَفُوۡرُ ۙ﴿۷﴾ تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیۡظِ ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیۡہَا فَوْجٌ سَاَلَہُمْ خَزَنَتُہَاۤ اَلَمْ یَاۡتِكُمْ نَذِیۡرٌ ﴿۸﴾ قَالُوۡا بَلٰی قَدْ جَآءَنَا نَذِیۡرٌ ۬ۙ فَکَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللہُ مِنۡ شَیۡءٍ ۚۖ اِنْ اَنۡتُمْ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ کَبِیۡرٍ ﴿۹﴾
ترجمہ

میری قدرت کی دلیل یہ ہے کہ) میں نے آسمانوں کو چراغوں (یعنی برجوں) سے مزین کیا، ان کو (یعنی برج) شیطان کے لیے میزائل بنایا (سورہ حجر میں بیان کیا گیا ہے) اور میں نے انہیں بنایا۔ (یعنی شیاطین) کے لیے میں نے عذاب جہنم تیار کر رکھا ہے (اس دنیا کے اس میزائل کے بغیر آخرت پر کفر کی وجہ سے)۔ جو لوگ اپنے رب (یعنی اس کی توحید) کا انکار کرتے ہیں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ یہ کتنا برا ہے؟ جب وہ وہاں پھینکے جائیں گے تو وہ اس کے اخراج کی گرج سنیں گے۔ کلوڈھے میں جہنم ٹوٹ جائے گی۔ (یا تو اللہ تعالیٰ اس میں سمجھ اور غصہ پیدا کر دے گا، تاکہ وہ کافروں پر بھی ناراض ہو، یا مثال کے طور پر یہ کہے رہا ہے (یعنی جس طرح غصے سے آگ بھڑکتی ہے اسی طرح جہنم بھی شدید جوش سے بھڑکتی رہے گی)۔ جب بھی کوئی (کافر) جماعت اس میں ڈالی جائے گی تو اس کے محافظ ان سے پوچھیں گے: کیا تمہارے ساتھ کوئی ڈرانے والا (نبی) ہے؟ نہیں پہنچے؟ (تمہیں اس امن کے بارے میں کون ڈراتا تھا اور اس لیے تم سے اپنے دفاع کے اسباب اکٹھے کرتا تھا؟ یہ سوال حکمرانی کے لیے ہوگا، یعنی نبی ضرور آئے ہوں گے۔ یہ سوال ہر نئی امت سے کیا جائے گا۔ کیونکہ کفار کی تمام جماعتیں کفر کی وجہ سے ایک ایک کر کے جہنم میں جائیں گی۔ وہ (گناہ کا اقرار کرتے ہوئے) کہیں گے: ہاں، ہمارے پاس ایک ڈرانے والا آیا تھا۔ پھر (بدقسمتی سے) ہم نے جھوٹ بولا اور اللہ کہا کتاب کی قسم) نے کچھ نازل نہیں کیا۔ آپ الجھن میں ہیں.

سورہ ملک آیت نمبر 5-9
۱۸

سورہ الجن آیت 8-9

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰہَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیۡدًا وَّ شُہُبًا ۙ﴿۸﴾ وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْہَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ ؕ فَمَنۡ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَہٗ شِہَابًا رَّصَدًا ۙ﴿۹﴾
ترجمہ

'اور ہم نے آسمان کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی کوشش کی لیکن ہم نے آسمان کو سخت محافظوں اور الکاوں سے بھرا ہوا پایا۔ "اور پہلے ہم خبریں سننے کے لیے آسمان کے مختلف اڈوں پر بیٹھا کرتے تھے، لیکن اب اگر کوئی خبر سننا چاہے تو اس پر پھینک دیتا ہے۔ آتش گیر میٹورائٹس کا سامنا کرنے کے لیے تیار۔

سورہ الجن آیت 8-9
۱۹

سورہ بروج آیت نمبر 10

اِنَّ الَّذِیۡنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوۡبُوۡا فَلَہُمْ عَذَابُ جَہنَّمَ وَ لَہُمْ عَذَابُ الْحَرِیۡقِ ﴿ؕ۱۰﴾
ترجمہ

جن لوگوں نے کسی مومن عورت کو نقصان پہنچایا اور اس کے بعد توبہ نہ کی ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے، جلنے کا عذاب ہے۔

سورہ بروج آیت نمبر 10
۲۰

سورہ لیل آیت نمبر 14-16

{فَأَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّى (14) لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى (15) الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى (16)} [الليل: 14 - 16]
ترجمہ

میں نے تمہیں جلتی ہوئی آگ سے خبردار کیا تھا۔ اس میں صرف وہی لوگ داخل ہوں گے جو جھٹلائے اور منہ پھیرے۔

سورہ لیل آیت نمبر 14-16
۲۱

سورہ قریہ آیت نمبر 8-11

{وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ (8) فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ (9) وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ (10) نَارٌ حَامِيَةٌ (11)} [القارعة: 8 - 11]
ترجمہ

اور جس کا (ایمان کا) پیمانہ ہلکا ہو (یعنی کافر) اس کا خطاب ہبیہ ہوگا۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ (یعنی حبیہ) کیا ہے؟ (یہ) جلتی ہوئی آگ ہے۔

سورہ قریہ آیت نمبر 8-11
۲۲

سورہ حمزہ آیت نمبر 4-9

کَلَّا لَیُنۡۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَۃِ ۫﴿ۖ۴﴾ وَ مَاۤ اَدْرٰىکَ مَا الْحُطَمَۃُ ؕ﴿۵﴾ نَارُ اللہِ الْمُوۡقَدَۃُ ۙ﴿۶﴾ الَّتِیۡ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْـِٕدَۃِ ؕ﴿۷﴾ اِنَّہَا عَلَیۡہِمۡ مُّؤْصَدَۃٌ ۙ﴿۸﴾ فِیۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ ٪﴿۹﴾
ترجمہ

اسے ضرور اس آگ میں ڈالا جائے گا جو ہر چیز کو ریزہ ریزہ کر دے گی، اللہ کی آگ، (اللہ کے حکم سے) بھڑکائی گئی، (اللہ کی آگ، جس کا مطلب یہ ہے کہ آگ بہت سخت اور خوفناک ہوگی) جو (جسم کو چھوتے ہی) ہڈیوں تک پہنچ جائے گی۔ کہ اگنی - ان پر بندھے ہوئے ہوں گے (اس طرح کہ وہ آگ کے ایک بڑے لمبے کالم سے گھرے ہوئے ہوں گے) جیسے آگ کے صندوق سے بھرا ہوا ہو۔

سورہ حمزہ آیت نمبر 4-9
۲۳

جنات کی مجلس کی رقیہ (ایک ساتھ)

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّالْعٰلَمِیْنَ ۙ﴿۱﴾ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۙ﴿۲﴾ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ؕ﴿۳﴾اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ؕ﴿۴﴾اِهْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ۙ﴿۵﴾صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ۬ۙ۬غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْوَلَا الضَّآ لِّیْنَ۠﴿۷﴾
আল হামদুলিল্লা-হি রাব্বিল ‘আ-লামীন।
আররাহমা-নির রাহীম।
মা-লিকি ইয়াওমিদ্দীন।
ইয়্যা-কা না‘বুদুওয়া ইয়্যা-কা নাছতা‘ঈন।
ইহদিনাসসিরা-তাল মুছতাকীম।
সিরা-তাল্লাযীনা আন‘আমতা ‘আলাইহিম ।
গাইরিল মাগদূ বি ‘আলাইহিম ওয়ালাদ্দাল্লীন।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ ۚۖۛ فِیْهِ ۚۛ هُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ ۙ﴿۳﴾ وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ۚ وَ بِالْاٰخِرَۃِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ ؕ﴿۴﴾ اُوْلٰٓئِکَ عَلٰی هُدًی مِّنْ رَّبِّهِمْ ٭ وَ اُوْلٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴿۵﴾
আলিফ লামমীম।
যা-লিকাল কিতা-বুলা-রাইবা ফীহি হুদাল লিলমুত্তাকীন।
আল্লাযীনা ইউ’মিনূনা বিলগাইবি ওয়াইউকীমূনাসসালা-তা ওয়া মিম্মা-রাঝাকনা-হুমইউনফিকূ ন।
ওয়াল্লাযীনা ইউ’মিনূনা বিমাউনঝিলা ইলাইকা ওয়ামাদ উনঝিলা মিন কাবলিকা ওয়াবিল আ-খিরাতি হুম ইউকিনূন।
উলাইকা ‘আলা-হুদাম মিররাব্বিহিম ওয়া উলাইকা হুমুল মুফলিহূন।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنَ ۚ وَمَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ ٭ وَمَاۤ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَمَارُوْتَ ؕ وَمَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَكْفُرْ ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهٖ ؕ وَمَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللهِ ؕ وَیَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَلَا یَنْفَعُهُمْ ؕ وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ ۟ؕ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ ؕ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ﴿۱۰۲﴾
ওয়াত্তাবা‘উ মা-তাতলুশশাইয়া-তীনু‘আলা- মুলকি ছুলাইমা-না ওয়ামা-কাফারা ছুলাইমা-নু ওয়ালা- কিন্নাশশাইয়া-তীনা কাফারূ ইউ‘আলিলমূনান্না-ছাছছিহরা ওয়ামা উনঝিলা ‘আলাল মালাকাইনি ব্বিা-বিলা হা-রূতা ওয়ামা-রূতা ওয়ামা- ইউ‘আলিলমা-নি মিন আহাদিন হাত্তা-ইয়াকূলা ইন্নামা-নাহনুফিতনাতুন ফালা-তাকফুর ফাইয়াতা‘আল্লামূনা মিনহুমা- মা-ইউফাররিকূনা বিহী বাইনাল মারই ওয়াঝাওজিহী ওয়ামা-হুম বিদাররীনা বিহী মিন আহাদিন ইল্লা- বিইযনিল্লা-হি ওয়াইয়াতা‘আল্লামূনা মা-ইয়াদুররুহুম ওয়ালাইয়ানফা‘উহুম ওয়ালাকাদ ‘আলিমূলামানিশতারা-হু মা-লাহূফিল আ-খিরাতি মিন খালাকিওঁ ওয়ালাবি’ছা মা-শারাও বিহী আনফুছাহুম লাও কা-নূইয়া‘লামূন।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

وَ اِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ﴿۱۶۳﴾۠ اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَاۤ اَنْزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّۃٍ ۪ وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ﴿۱۶۴﴾ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ کَحُبِّ اللهِ ؕ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰهِ ؕوَلَوْ یَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ ۙ اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا ۙ وَّاَنَّ اللهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ ﴿۱۶۵﴾
ওয়া ইলাহুকুম ইলাহুন ওয়াহিদ, লা ইলাহা ইল্লা হুয়ার রাহমানুর রাহীম।
ইন্না ফি খালকিস্‌ সামাওয়াতি ওয়াল আরদ়ি, ওয়াখ্তিলাফিল লাইলি ওয়ান্‌নাহার, ওয়াল্‌ফুল্কিল্লাতি তাজরী ফিল বাহরি বিমা ইয়ানফাউন্নাস, ওয়া মা আনযালাল্লাহু মিনাস্‌ সামা’ই মিন মা’ইন, ফা-আহইয়া বিহিল আরদ়া বা’দা মাওতিহা, ওয়া বাস্সা ফীহা মিন্‌ কুল্লি দাব্বাহ, ওয়া তাসরীফির্‌ রিয়াহি ওয়াস্‌সহাবিল মুসাখ্খারি বাইনাস্‌ সামা’ই ওয়াল আরদ়, লা-আয়াতিল্লি কওমিই ইয়াক্বিলূন।
ওয়া মিনান্‌ নাসি মান্‌ ইয়্যাত্তাখিযু মিন দুনিল্লাহি আন্‌দাদান, ইউহিব্বূনাহুম কা হুব্বিল্লাহ, ওয়াল্লাযিনা আমানূ আশাদ্দু হুব্বান লিল্লাহ, ওয়ালাও ইয়ারা আল্লাযিনা যালামূ ইয্‌ ইয়্যারাউনাল আযাবা, আন্নাল কুওওয়াতা লিল্লাহি জামীয়ান, ওয়া আন্নাল্লাহা শাদীদুল আযাব।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

اَللهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۬ۚ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۚ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَاشَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ﴿۲۵۵﴾
আল্লা-হু লাইলা-হা ইল্লা-হুওয়া আল হাইয়ুল কাইয়ূমু লা-তা’খুযুহূ ছিনাতুওঁ ওয়ালা-নাওমুন লাহূ মা-ফিছ ছামা-ওয়া-তি ওয়ামা-ফিল আরদি মান যাল্লাযী ইয়াশফা‘উ ‘ইনদাহূইল্লা-বিইযনিহী ইয়া‘লামুমা-বাইনা আইদীহিম ওয়ামা-খালফাহুম ওয়ালা-ইউহীতূনা বিশাইইম মিন ‘ইলমিহীইল্লা-বিমা-শাআ ওয়াছি‘আ কুরছিইয়ুহুছ ছামা-ওয়া-তি ওয়াল আরদা ওয়ালা-ইয়াঊদুহু হিফজু হুমা-ওয়া হুওয়াল ‘আলিইয়ূল ‘আজীম।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

شَهِدَ اللهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۙ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ﴿ؕ۱۸﴾ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللهِ الْاِسْلَامُ ۟ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ ؕ وَمَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللهِ فَاِنَّ اللهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ﴿۱۹﴾
শাহিদাল্লা-হু আন্নাহু লা ইলা-হা ইল্লা-হুওয়া ওয়াল মালাইকাতুওয়া উলুল ‘ইলমি কাইমাম বিলকিছতিলাইল্লা-হা ইল্লা-হুওয়াল আঝীঝুল হাকীম।
ইন্নাদ্দীনা ‘ইনদাল্লা-হিল ইছলা-মু ওয়ামাখতালাফাল্লাযীনা ঊতুল কিতা-বা ইল্লা-মিম বা‘দি মা-জাআহুমুল ‘ইলমুবাগইয়াম বাইনাহুম ওয়ামাইঁ ইয়াকফুর বিআ-য়া-তিল্লা-হি ফাইন্নাল্লা-হা ছারী‘উল হিছা-ব।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

اِنَّ رَبَّكُمُ اللهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ۟ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ ؕ تَبٰرَکَ اللهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿۵۴﴾ اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ﴿ۚ۵۵﴾ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ ﴿۵۶﴾
ইন্না-রাব্বাকুমুল্লা-হুল্লাযী খালাকাছছামা-ওয়া-তি ওয়াল আরদা ফী ছিত্তাতি আইইয়া-মিন ছু ম্মাছ তাওয়া-‘আলাল ‘আরশি ইউগশিল লাইলান নাহা-রা ইয়াতলুবুহূহাছীছাওঁ ওয়াশশামছা ওয়াল কামারা ওয়ান নুজূমা মুছাখখারা-তিম বিআমরিহী আলা-লাহুল খালকুওয়াল আমরু তাবা-রাকাল্লা-হু রাব্বুল ‘আ-লামীন।
উদ‘ঊ রাব্বাকুম তাদাররু‘আওঁ ওয়া খুফইয়াতান ইন্নাহূলা-ইউহিব্বুল মু‘তাদীন।
ওয়ালা-তুফছিদূফিল আরদিবা‘দা ইসলা-হিহা-ওয়াদ‘ঊহু খাওফাওঁ ওয়া তামা‘আন ইন্না রাহমাতাল্লা-হি কারীবুম মিনাল মুহছিনীন।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْکَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوْا اِلٰی قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ ﴿۲۹﴾ قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا کِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَی الْحَقِّ وَ اِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ ﴿۳۰﴾ یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ﴿۳۱﴾ وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَلَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ ؕ اُولٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ﴿۳۲﴾
ওয়া ইযসারাফনাইলাকা নাফারাম মিনাল জিন্নি ইয়াছতামি‘ঊনাল কুরআ-না ফালাম্মাহাদারূহু কা-লূআনছিতূ ফালাম্মা-কুদিয়া ওয়াল্লাও ইলা-কাওমিহিম মুনযিরীন।
কা-লূইয়া-কাওমানাইন্না-ছামি‘না-কিতা-বান উনঝিলা মিম বা‘দি মূছা-মুসাদ্দিকালিলমাবাইনা ইয়াদাইহি ইয়াহদীইলাল হাক্কিওয়া ইলা-তারীকিম মুছতাকীম।
ইয়া-কাওমানাআজীবূদা-‘ইয়াল্লা-হি ওয়াআ-মিনূবিহী ইয়াগফিরলাকুম মিন যুনূবিকুম ওয়া ইউজিরকুম মিন ‘আযা-বিন আলীম।
ওয়া মাল লা-ইউজিব দা-‘ইয়াল্লা-হি ফালাইছা বিমু‘জিঝিন ফিল আরদিওয়া লাইছা লাহূমিন দূ নিহীআওলিূআউ উলাইকা ফী দালা-লিমমুবীন।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِ ﴿ۚ۳۱﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۲﴾ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ ﴿ۚ۳۳﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۴﴾ یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ ۬ۙ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِ ﴿ۚ۳۵﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۶﴾ فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّهَانِ ﴿ۚ۳۷﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۸﴾ فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْـَٔلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۳۹﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۰﴾
ছানাফরুগু লাকুম আইয়ুহাছছাকালা-ন।
ফাবিআইয়ি আ-লাই রাব্বিকুমা- তুকাযযিবা-ন ।
ইয়া-মা‘শারাল জিন্নি ওয়াল ইনছি ইনিছতাতা‘তুম আন তানফুযূমিন আকতা-রিছ ছামাওয়া-তি ওয়াল আরদিফানফুযূ লা-তানফুযূনা ইল্লা-বিছুলতা-ন।
ফাবিআইয়ি আ-লাই রাব্বিকুমা- তুকাযযিবা-ন ।
ইউরছালু‘আলাইকুমা-শুওয়া-জু ম মিন্না-রিওঁ ওয়া নুহা-ছুন ফালা-তানতাসিরা-ন।
ফাবিআইয়ি আ-লাই রাব্বিকুমা- তুকাযযিবা-ন ।
ফাইযান শাককাতিছ ছামাউ ফাকা-নাত ওয়ারদাতান কাদ্দিহা-ন।
ফাবিআইয়ি আ-লাই রাব্বিকুমা- তুকাযযিবা-ন ।
ফাইয়াওমা ইযিল্লা-ইউছআলু‘আন যামবিহী ইনছুওঁ ওয়ালা-জান।
ফাবিআইয়ি আ-লাই রাব্বিকুমা- তুকাযযিবা-ন ।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللهِ ؕ وَ تِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ﴿۲۱﴾ هُوَ اللهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَۃِ ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ﴿۲۲﴾ هُوَ اللهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ ؕ سُبْحٰنَ اللهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ﴿۲۳﴾ هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ﴿۠۲۴﴾
লাও আনঝালনা-হা-যাল কুরআ-না ‘আলা-জাবালিল লারাআইতাহু খা-শি‘আম মুতাসাদ্দি‘ আম মিন খাশয়াতিল্লা-হি ওয়া তিলকাল আমছা-লুনাদরিবুহা-লিন্নাছি লা‘আল্লাহম ইয়াতাফাক্কারূন।
হুওয়াল্লা-হুল্লাযী লাইলা-হা ইল্লা-হুওয়া ‘আ-লিমুল গাইবি ওয়াশশাহা-দাতি হুওয়াররাহমা-নুর রাহীম।
হুওয়াল্লা-হুল্লাযী লাইলা-হা ইল্লা-হুওয়া আলমালিকুল কুদ্দূছুছ ছালা-মুল ম’মিনুল মুহাইমিনুল ‘আঝীঝুল জাব্বা-রুল মুতাকাব্বিরু ছুবহা-নাল্লা-হি ‘আম্মা-ইউশরিকূন।
হুওয়াল্লা-হুল খা-লিকুল বা-রিউল মুছাওবিরু লাহুল আছমাউল হুছনা-; ইউছাব্বিহুলাহূ মা-ফিছ ছামা-ওয়া-তি ওয়াল আরদি ওয়াহুওয়াল ‘ আঝীঝুল হাকীম।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا ۙ﴿۱﴾ یَّهْدِیْۤ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ ؕ وَ لَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا ۙ﴿۲﴾ وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّ لَا وَلَدًا ۙ﴿۳﴾ وَّ اَنَّهٗ کَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَی اللهِ شَطَطًا ۙ﴿۴﴾
কুলঊহিয়া ইলাইইয়া আন্নাহুছতামা‘আ নাফারুম মিনাল জিন্নি ফাকা-লূইন্না-ছামি‘নাকুরআ-নান ‘আজাবা- ।
ইয়াহদীইলাররুশদি ফাআ-মান্না- বিহী ওয়া লান নুশরিকা বিরাব্বিনাআহাদা- ।
ওয়া আন্নাহূতা‘আ- জাদ্দুরাব্বিনা- মাত্তাখাযা সা-হিবাতাওঁ ওয়ালা- ওয়ালাদা- ।
ওয়া আন্নাহূকা-না ইয়াকূলুছাফীহুনা- ‘আলাল্লা-হি শাতাতা- ।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ﴿۱﴾ وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا ۙ﴿۲﴾ وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَا ۚ﴿۳﴾ یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا ۙ﴿۴﴾ بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَهَا ؕ﴿۵﴾ یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ۬ۙ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْ ؕ﴿۶﴾ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَهٗ ؕ﴿۷﴾ وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَهٗ ۠﴿۸﴾
ইযা-ঝুলঝিলাতিল আরদুঝিলঝা-লাহা-।
ওয়া আখরাজাতিল আরদুআছকা-লাহা-।
ওয়া কা-লাল ইনছা-নুমা-লাহা-।
ইয়াওমাইযিন তুহাদ্দিছু আখবা-রাহা-।
বিআন্না রাব্বাকা আওহা-লাহা-।
ইয়াওমাইযিইঁ ইয়াসদুরুন্না-ছুআশতা-তাল লিউউরাও আ‘মা-লাহুম।
ফামাইঁ ইয়া‘মাল মিছকা-লা যাররাতিন খাইরাইঁ ইয়ারাহ।
ওয়া মাইঁ ইয়া‘মাল মিছকা-লা যাররাতিন শাররাইঁ ইয়ারাহ।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

اَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ ؕ﴿۱﴾ اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ ۙ﴿۲﴾ وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَ ۙ﴿۳﴾ تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ ۪ۙ﴿۴﴾ فَجَعَلَهُمْ کَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ ۠﴿۵﴾
আলাম তারা কাইফা ফা‘আলা রাব্বুকা বিআসহা-বিল ফীল। আলাম ইয়াজ‘আল কাইদাহুম ফী তাদলীল ওয়া আরছালা ‘আলাইহিম তাইরান আবা-বীল। তারমীহিম বিহিজা-রাতিম মিন ছিজ্জীল। ফাজা‘আলাহুম কা‘আসফিম মা’কূল।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْکٰفِرُوْنَ ۙ﴿۱﴾ لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ ۙ﴿۲﴾ وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ ۚ﴿۳﴾ وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ ۙ﴿۴﴾ وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ ؕ﴿۵﴾ لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَلِیَ دِیْنِ ۠﴿۶﴾
কুল ইয়াআইয়ুহাল কা-ফিরূন। লাআ‘বুদুমা-তা‘বুদূন। ওয়ালাআনতুম ‘আ-বিদূনা মাআ‘বুদ। ওয়ালা আনা ‘আ-বিদুম মা-‘আবাত্তুম, ওয়ালাআনতুম ‘আ-বিদূনা মাআ‘বুদ। লাকুম দীনুকুম ওয়ালিয়া দীন।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾ اَللهُ الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾ لَمْ یَلِدْ ۬ۙ وَ لَمْ یُوْلَدْ ۙ﴿۳﴾ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ ۠﴿۴﴾
কুল হুওয়াল্লা-হু আহাদ। আল্লা-হুসসামাদ। লাম ইয়ালিদ ওয়ালাম ইঊলাদ। ওয়া লাম ইয়াকুল্লাহূকুফুওয়ান আহাদ।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ۙ﴿۱﴾ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ۙ﴿۲﴾ وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ ۙ﴿۳﴾ وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ ۙ﴿۴﴾ وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ۠﴿۵﴾
কুল আ‘ঊযুবিরাব্বিল ফালাক মিন শাররি মা-খালাক। ওয়া মিন শাররি গা-ছিকিন ইযা-ওয়াকাব। ওয়া মিন শাররিন নাফফা-ছা-তি ফিল ‘উকাদ। ওয়া মিন শাররি হা-ছিদিন ইযা-হাছাদ।

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾ مَلِکِ النَّاسِ ۙ﴿۲﴾ اِلٰهِ النَّاسِ ۙ﴿۳﴾ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ۬ۙ الْخَنَّاسِ ۪ۙ﴿۴﴾ الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ ۙ﴿۵﴾ مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ ۠﴿۶﴾
কুল আ‘ঊযুবিরাব্বিন্না-ছ, মালিকিন্না-ছ, ইলা-হিন্না-ছ। মিন শাররিল ওয়াছ ওয়া-ছিল খান্না-ছ। আল্লাযী ইউওয়াছবিছুফী সুদূরিন্নাছ-। মিনাল জিন্নাতি ওয়ান্না-ছ।
مسئلہ ایک صحت مند شخص میں اچانک ایک غیر معمولی بیماری پیدا ہو جائے گی، غیر معمولی یعنی ایک صحت مند شخص سے مختلف سلوک کرنا۔ جب جنات کا ظہور ہوتا ہے تو یہ قلیل مدت کے لیے ہو سکتا ہے یا طویل مدت کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ بے خوابی کی علامات، ڈراؤنے خواب، بار بار گالی گلوچ، چیخنا یا نیند میں چلنا۔ خواب میں خوفناک جانور کو حملہ کرتے دیکھنا۔ اس کے علاوہ، جن مختلف شکلوں میں ظاہر ہو سکتے ہیں جیسے بہت لمبے یا چھوٹے، کالے اور پراگندہ۔ بدمزاج ہونا، عبادت میں مشغول ہونا، تلاوت کرنا سماعت میں بے چینی، ہاتھ پاؤں کا فالج وغیرہ، ہوش میں کمی وغیرہ۔
فضیلت

تفصیلات: جادوگرنی سے متاثرہ شخص کے علاج کے مختلف طریقے ہیں: ایک: پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ چڑیل نے کیسے جادو کیا۔ مثلاً اگر یہ معلوم ہو کہ جادوگر نے کچھ بال کسی خاص جگہ یا کنگھی یا کسی اور جگہ چھوڑے ہیں۔ اگر محل وقوع معلوم ہو تو جادو کے اثر کو ختم کرنے کے لیے اس چیز کو جلا کر تباہ کر دینا چاہیے، جس سے جادوگر کا کیا ارادہ تھا۔ دو: اگر جادوگر کو پہچانا جا سکتا ہے، تو اسے مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے کیے ہوئے جادو کو تباہ کرے۔ ہو گیا اس سے کہا جائے گا: جس چیز کے لیے تو نے لابنگ کی تھی اسے برباد کر دے ورنہ تیری گردن ضائع ہو جائے گی۔ اس کے جادو کو ختم کرنے کے بعد، مسلمان حکمران اسے قتل کرنے کا حکم دے گا۔ کیونکہ خالص رائے کے مطابق جادوگر کو بغیر توبہ کے مارا جائے گا۔ جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جادوگر کی سزا یہ ہے کہ اس کی گردن تلوار سے کاٹ دی جائے۔ جب حفصہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا کہ ان کا ایک خادم جادو کر رہا ہے تو اسے قتل کر دیا گیا۔ تین: جادو آیت الکرسی یا سورہ اعراف کی آیات، سورہ یونس، سورہ طٰہٰ جادو سے متعلق مریض پر یا برتن میں پڑھی جائیں گی۔ ان کے ساتھ سورہ کافرون، سورہ اخلاص۔ سورہ فلق اور سورہ ناس پڑھ کر مریض کے لیے دعا کریں۔ خاص طور پر وہ دعا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے: "اللّٰہُمَّ رَبِّنَ نَسَ! عَزِیْبِلَ بَعْسَ وَشَفِیْ، انتشَافِیْ، لا شفاءِ اِلٰہِ شفاءُ۔ شفاءان لا یوغدیرو۔" ساکاما۔" (مفہوم: اے اللہ! اے انسانوں کے رب! تو ہی تکلیف کو دور کرنے والا اور شفا عطا کرنے والا ہے۔ (کیونکہ) تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا ہی حقیقی شفا ہے، تو بیماری کو اس طرح شفا دیتا ہے کہ بیماری کو مٹا دیتا ہے۔) جبرائیل (ع) وہ دعا بھی پڑھی جا سکتی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی اور جھاڑ دی۔ وہ دعا یہ ہے - "بسم اللہ ارقبک من کُلّ شَیْنَ یُزَکَ وَ من شرِرِ کُلِّ نَفْسِنَ عَنْ حَسِیْنَ اللہُ یَشْفِقُ بسم اللہ۔" آرکاویک۔" (مطلب - اللہ کے نام سے میں تجھے بری کرتا ہوں۔ تمام تکلیف دہ معاملات سے۔ ہر نفس کے شر سے اور حسد کرنے والی نظر سے۔ اللہ تجھے شفا دے، اللہ کے نام سے میں تجھے بری کرتا ہوں۔) اس دعا کو تین بار پڑھیں اور پھونک ماریں۔ سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس تین بار پڑھ کر دم کریں۔ جو دعائیں ہم نے بیان کی ہیں ان کو پڑھ کر پانی میں پھونک دینا چاہیے۔ پھر سحر زدہ وہ پانی پی لے گا۔ اور بقیہ پانی سے حسبِ ضرورت ایک یا زیادہ مرتبہ غسل کریں۔ پھر انشاء اللہ مریض ٹھیک ہو جائے گا۔ علماء نے ان طریقوں کا ذکر کیا ہے۔ شیخ عبدالرحمٰن بن حسن رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب "فتح المجید شرح کتاب توحید" کے "باب نشر" میں یہ مسائل اور بعض دیگر مسائل کو ذکر کیا ہے۔ چار: سات کچے بیر پتوں کو جمع کریں اور پتیوں کو پیس لیں۔ پانی میں پاؤڈر ملا کر مذکورہ آیات اور دعائیں پڑھ کر پانی میں پھونک مارے گا۔ پھر وہ پانی پلائے گا۔ اور تھوڑے سے پانی سے غسل کریں۔ یہ عمل اس صورت میں بھی لاگو ہوتا ہے جب مرد اپنی بیوی سے ہمبستری سے معذور ہو۔ فائدہ مند بیر کے سات پتے پانی میں بھگو دیں۔ پھر مذکورہ آیات اور دعائیں پڑھ کر پانی میں پھونک مارے گا۔ پھر پانی پیے گا اور اس پانی سے غسل کرے گا۔ سحر زدہ مریضوں اور جن کی بیویاں ہمبستری سے عاجز ہیں ان کے علاج کے لیے بیر کے پتوں کے پانی میں پڑھی جانے والی آیات اور دعائیں درج ذیل ہیں: 1- سورہ فاتحہ کی تلاوت۔ 2- آیت الکرسی یا سورہ بقرہ کی آیت نمبر 255 پڑھنا۔ اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ہُوَۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ لَا تَاْخُذُهٗ سِـنَةٌ وَّلَا نَوْمٌۭ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْمَوٰتِ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۭ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِمِہٖ بِشَيْءٍ شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـــــُٔــوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعظِيْمُ کا مطلب ہے "مگر" وہ "گو" ہے (نہیں)۔ نہیں وہ ابدی ہے، تمام مخلوقات کا پالنے والا۔ نہ اونگھ اور نہ نیند اسے چھو سکتی ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین پر ہے سب اسی کا ہے۔ وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس سفارش کرے؟ ان کے آگے اور پیچھے سب کچھ وہ جانتا ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے سوائے اس کے جو وہ چاہے۔ اس کی 'کرسی' آسمانوں اور زمین پر پھیلی ہوئی ہے۔ اور ان دونوں کا نفقہ اس کے لیے بوجھ نہیں ہے۔ وہ بلند و بالا ہے۔) 3- سورہ اعراف کا جادو متعلقہ آیات پڑھنا۔ وہ آیات ہیں- قَالَ إِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ (106) فَأَلْقَى عَصَاهُ فَإِذَا هِبٌعُبٌیْبٌ (107) وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ (108) قَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ إِنَّ هَذَلَاٌ 9 يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَكُمْ مِنْ أَرْضِكُمْ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ (110) قَالُوا أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَرْسِلْ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِينَ (110) بِكُلِّ سَاحِرٍ عَلِيمٍ (112) وَجَاءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوا إِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِينَ (112) وَإِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ (114) قَالُوا يَا مُوسَى إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ (115) قَالَ أَلْقُوا فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا اَعْيُنَ النَّاسِ وَعْيُنَ النَّاسِ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (118) فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوا صَاغِرِينَ (119) وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ (120) قَالُوا امَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ (121) رَبِّ مُوسَارُونَ (4) جادو کے بارے میں آیات پڑھنا۔ وہ ہیں- وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُونِي بِكُلِّ سَاحِرٍ عَلِيمٍ (79) فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُوسَى أَلْقُوا مَا أَنْ 80) (81) وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ (یعنی اور فرعون نے کہا کہ میرے پاس ماہر جادوگر لے آؤ پھر جب جادوگر آئے۔ موسیٰ نے ان سے کہا: پھینکو، جو کچھ تم پھینکو۔ پھر جب انہوں نے ڈالا تو موسیٰ نے کہا کہ جو کچھ تم لائے ہو وہ سب جادو ہے اب اللہ اسے جھوٹا بنا رہا ہے۔ بلاشبہ اللہ ظالموں کے اعمال کو جائز نہیں ٹھہراتا ہے۔ اللہ اپنے حکم سے حق کو حق میں بدل دیتا ہے، چاہے گنہگاروں کو یہ پسند ہی کیوں نہ ہو۔) [سورہ یونس، آیات: 79-82] 5- سورہ طٰہٰ کی آیات پڑھنا۔ وہ ہیں- قَالُوا يَا مُوسَى إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ أَوَّلَ مَنْ الَلْقَى (65) قَالَ بَلْ أَلْقُوا فَإِذَا حُبِهُمْ وَمْهُمْ (66) (68) سورہ 69 کافرون پڑھنا۔ 7- سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ 3 بار ناک پھونکیں۔ 8- کچھ دعائیں پڑھیں۔ مثال کے طور پر: "اللّٰہُمَّا، رَبَّنَ نَسَ! عَزِیْبِلٌ بِسَ۔ واشفی، انتش شفیع۔ لا شفاءِ اِلٰہ شفق۔ شفاءان لا یوگدیرو سقاما۔" اگر یہ دعا "بسم اللہ ارقبک من کُلّ شَیْن" بھی پڑھی جائے۔ معقول و من شرعی کُلّی نفسِ عَوَیْنِ حَسِیْنَ؛ اللہ یاشفق۔ بسم اللہ ارقبک۔" مندرجہ بالا آیات اور دعائیں براہ راست جادو زدہ پر پڑیں اور اس کے سر اور سینے پر پھونک دیں تو اللہ کی مرضی سے شفاء ہو گی۔ حوالہ جات۔ -ruqyahbd.org