سنن نسائی — حدیث #۲۱۶۴۳
حدیث #۲۱۶۴۳
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُجَالِدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ، - يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةً فَزَادَ فِيهَا أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ قُلْنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ قَالَ " وَمَا ذَاكَ " . فَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي فَعَلَ فَثَنَى رِجْلَهُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ " لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ لأَنْبَأْتُكُمْ بِهِ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلاَتِهِ شَيْئًا فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ صَوَابٌ ثُمَّ يُسَلِّمْ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ " .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، آپ نے اس میں کچھ بڑھا، یا گھٹا دیا، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم نے پوچھا: اللہ کے نبی! کیا نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ تو ہم نے آپ سے اس چیز کا ذکر کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، تو آپ نے اپنا پاؤں موڑا، قبلہ رخ ہوئے، اور سہو کے دو سجدے کیے، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اگر نماز کے متعلق کوئی نئی چیز ہوتی تو میں تمہیں اس کی خبر دیتا ، پھر فرمایا: میں انسان ہی تو ہوں، جیسے تم بھولتے ہو، میں بھی بھولتا ہوں، لہٰذا تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی شک ہو جائے تو غور و فکر کرے، اور اس چیز کا قصد کرے جس کو وہ درست سمجھ رہا ہو، پھر وہ سلام پھیرے، پھر سہو کے دو سجدے کرے ۔
راوی
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن نسائی # ۱۳/۱۲۴۳
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۳: نماز میں سہو