سنن نسائی — حدیث #۲۱۶۹۵
حدیث #۲۱۶۹۵
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ - قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبِشْرُ يُرَى فِي وَجْهِهِ فَقَالَ
" إِنَّهُ جَاءَنِي جِبْرِيلُ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَمَا يُرْضِيكَ يَا مُحَمَّدُ أَنْ لاَ يُصَلِّيَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلاَّ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلاَ يُسَلِّمَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلاَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا " .
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور آپ کے چہرے پر خوشی و مسرت جھلک رہی تھی، آپ نے فرمایا: یہ ( خوشی اس لیے ہے کہ ) میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے، اور کہنے لگے: اے محمد! کیا آپ کے لیے یہ خوشی کا باعث نہیں کہ آپ کی امت میں سے جو کوئی بھی آپ پر صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیجے گا تو میں اس پر دس بار درود بھیجوں گا، اور جو کوئی آپ کے امتیوں میں سے آپ پر سلام بھیجے گا میں تو اس پر دس بار سلام بھیجوں گا ۔
راوی
عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن نسائی # ۱۳/۱۲۹۵
درجہ
Hasan
زمرہ
باب ۱۳: نماز میں سہو