سنن نسائی — حدیث #۲۲۴۳۹
حدیث #۲۲۴۳۹
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ - عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُلَّمَا كَانَتْ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْرُجُ فِي آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ :
" السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا وَإِيَّاكُمْ مُتَوَاعِدُونَ غَدًا أَوْ مُوَاكِلُونَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں جب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے یہاں ہوتی تو رات کے آخری ( حصے ) میں مقبرہ بقیع کی طرف نکل جاتے، ( اور ) کہتے: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا وإياكم متواعدون غدا أو مواكلون وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون اللہم اغفر لأهل بقيع الغرقد» ”اے مومن گھر ( قبرستان ) والو! تم پر سلامتی ہو، ہم اور تم آپس میں ایک دوسرے سے کل کی حاضری کا وعدہ کرنے والے ہیں، اور آپس میں ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے ہیں، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں، اے اللہ! بقیع غرقد والوں کی مغفرت فرما“۔
راوی
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
ماخذ
سنن نسائی # ۲۱/۲۰۳۹
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۱: جنازہ