سنن نسائی — حدیث #۲۲۴۷۴
حدیث #۲۲۴۷۴
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ - قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ أَخَذَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُرِينَا مَصَارِعَهُمْ بِالأَمْسِ قَالَ " هَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا " . قَالَ عُمَرُ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا تِيكَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ فَأَتَاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَنَادَى " يَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ يَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا " . فَقَالَ عُمَرُ تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لاَ أَرْوَاحَ فِيهَا فَقَالَ " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ " .
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ وہ ہم سے اہل بدر کے سلسلہ میں بیان کرنے لگے، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( کافروں کے ) مارے جانے کی جگہیں ایک دن پہلے دکھلا دیں، اور فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کل فلاں کے پچھاڑ کھا کر گرنے کی جگہ یہاں ہو گی، اور فلاں کی یہاں“، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! ان جگہوں میں کوئی فرق نہیں آیا، چنانچہ انہیں ایک کنویں میں ڈال دیا گیا، ( پھر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، ( اور ) پکارا: ”اے فلاں، فلاں کے بیٹے! اے فلاں، فلاں کے بیٹے! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے صحیح پایا؟ میں نے تو اللہ نے جو وعدہ مجھ سے کیا تھا اسے صحیح پایا“، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہیں جن میں روح نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سنتے“۔
راوی
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن نسائی # ۲۱/۲۰۷۴
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۱: جنازہ