سنن نسائی — حدیث #۲۲۵۸۵
حدیث #۲۲۵۸۵
أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَةَ الضُّحَى قَالَتْ لاَ إِلاَّ أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ . قُلْتُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُ صَوْمٌ مَعْلُومٌ سِوَى رَمَضَانَ قَالَتْ وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ وَلاَ أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ .
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے ( لوٹ کر ) آتے، پھر میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان کے علاوہ کوئی متعین روزہ تھا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم آپ نے سوائے رمضان کے کسی خاص مہینے کے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ آپ نے وفات پا لی، اور نہ ہی پورے ماہ بغیر روزے کے رہے، کچھ نہ کچھ روزے اس میں ضرور رکھتے۔
راوی
عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن نسائی # ۲۲/۲۱۸۵
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۲: روزہ