سنن نسائی — حدیث #۲۳۳۴۵
حدیث #۲۳۳۴۵
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مَكَّةَ قَالَ الْمُشْرِكُونَ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ وَلَقَوْا مِنْهَا شَرًّا فَأَطْلَعَ اللَّهُ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ عَلَى ذَلِكَ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَرْمُلُوا وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ مِنَ نَاحِيَةِ الْحِجْرِ فَقَالُوا لَهَؤُلاَءِ أَجْلَدُ مِنْ كَذَا .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ( فتح کے موقع پر ) مکہ تشریف لائے تو مشرکین کہنے لگے: انہیں یثرب یعنی مدینہ کے بخار نے لاغر و کمزور کر دیا ہے، اور انہیں وہاں شر پہنچا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دی تو آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اکڑ کر کندھے ہلاتے ہوئے تیز چلیں، اور دونوں رکنوں ( یعنی رکن یمانی اور حجر اسود ) کے درمیان عام چال چلیں، اور مشرکین اس وقت حطیم کی جانب ہوتے تو انہوں نے ( ان کو اکڑ کر کندھے اچکاتے ہوئے تیز چلتے ہوئے دیکھ کر ) کہا: یہ تو یہاں سے بھی زیادہ مضبوط اور قوی ہیں۔
راوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
ماخذ
سنن نسائی # ۲۴/۲۹۴۵
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۴: حج
موضوعات:
#Mother