سنن نسائی — حدیث #۲۳۴۴۴
حدیث #۲۳۴۴۴
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ، قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَةَ وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ نَجْدٍ فَأَمَرُوا رَجُلاً فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَجِّ فَقَالَ " الْحَجُّ عَرَفَةُ مَنْ جَاءَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ فَقَدْ أَدْرَكَ حَجَّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ { مَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ } " . ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلاً فَجَعَلَ يُنَادِي بِهَا فِي النَّاسِ .
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی کہتے ہیں کہ میں عرفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ آپ کے پاس نجد سے کچھ لوگ آئے تو انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: ”حج عرفہ ( میں وقوف ) ہے، جو شخص مزدلفہ کی رات میں صبح کی نماز سے پہلے عرفہ آ جائے، تو اس نے اپنا حج پا لیا۔ منیٰ کے دن تین دن ہیں، تو جو دو ہی دن قیام کر کے چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور جو تاخیر کرے اور تیرہویں کو بھی رکے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے“۔ پھر آپ نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا، جو لوگوں میں اسے پکار پکار کر کہنے لگا۔
راوی
عبدالرحمٰن بن یمور الدیلی رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن نسائی # ۲۴/۳۰۴۴
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۴: حج