سنن نسائی — حدیث #۲۴۰۷۰

حدیث #۲۴۰۷۰
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا‏}‏ قَالَ كَانَ يَكُونُ فِي حِجْرِ الرَّجُلِ الْيَتِيمَ فَيَعْزِلُ لَهُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَآنِيَتَهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ‏}‏ ‏{‏فِي الدِّينِ‏}‏ فَأَحَلَّ لَهُمْ خُلْطَتَهُمْ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو جس کی پرورش میں یتیم ہوتا تھا وہ اس کا کھانا پینا اور اس کا برتن الگ کر دیتا تھا لیکن یہ چیز مسلمانوں پر گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «وإن تخالطوهم فإخوانكم‏» ”اگر ان کو ملا کر رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہیں“ ( البقرہ: ۲۲۰ ) نازل فرمائی اور یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے ساتھ ملا لینے کو جائز قرار دے دیا۔
راوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
ماخذ
سنن نسائی # ۳۰/۳۶۷۰
درجہ
Hasan
زمرہ
باب ۳۰: وصیت
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث