سنن نسائی — حدیث #۲۱۰۲۱
حدیث #۲۱۰۲۱
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَأَسْرَيْنَا لَيْلَةً فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَامَ وَنَامَ النَّاسُ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ إِلاَّ بِالشَّمْسِ قَدْ طَلَعَتْ عَلَيْنَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ثُمَّ حَدَّثَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ .
ابومریم (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، تو ہم رات بھر چلتے رہے جب صبح ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور سو رہے، لوگ بھی سو گئے، تو سورج کی دھوپ پڑنے ہی پر آپ جاگے، تو آپ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان دی، پھر آپ نے فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے اقامت کہی، اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر آپ نے قیامت قائم ہونے تک جو اہم چیزیں ہونے والی ہیں انہیں ہم سے بیان کیں۔
راوی
برید بن ابی مریم رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن نسائی # ۶/۶۲۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۶: نماز کے اوقات