سنن نسائی — حدیث #۲۱۷۴۵
حدیث #۲۱۷۴۵
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا قُدَامَةُ، عَنْ جَسْرَةَ، قَالَتْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، - رضى الله عنها - قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَىَّ امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَتْ إِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ . فَقُلْتُ كَذَبْتِ . فَقَالَتْ بَلَى إِنَّا لَنَقْرِضُ مِنْهُ الْجِلْدَ وَالثَّوْبَ . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الصَّلاَةِ وَقَدِ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا فَقَالَ " مَا هَذَا " . فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَتْ فَقَالَ " صَدَقَتْ " . فَمَا صَلَّى بَعْدَ يَوْمَئِذٍ صَلاَةً إِلاَّ قَالَ فِي دُبُرِ الصَّلاَةِ " رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ أَعِذْنِي مِنْ حَرِّ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی: پیشاب سے نہ بچنے پر قبر میں عذاب ہوتا ہے تو میں نے کہا: تو جھوٹی ہے، تو اس نے کہا: سچ ہے ایسا ہی ہے، ہم کھال یا کپڑے کو پیشاب لگ جانے پر کاٹ ڈالتے ہیں، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے باہر تشریف لائے، ہماری آواز بلند ہو گئی تھی، آپ نے پوچھا: کیا ماجرا ہے؟ میں نے آپ کو جو اس نے کہا تھا بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سچ کہہ رہی ہے ، چنانچہ اس دن کے بعد سے آپ جو بھی نماز پڑھتے تو نماز کے بعد یہ کلمات ضرور کہتے: «رب جبريل وميكائيل وإسرافيل أعذني من حر النار وعذاب القبر» اے جبرائیل وم یکائیل اور اسرافیل کے رب! مجھے جہنم کی آگ کی تپش، اور قبر کے عذاب سے بچا ۔
راوی
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
ماخذ
سنن نسائی # ۱۳/۱۳۴۵
درجہ
Daif Isnaad
زمرہ
باب ۱۳: نماز میں سہو