سنن نسائی — حدیث #۲۲۷۲۳

حدیث #۲۲۷۲۳
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَارَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَوْرَةً قَالَ ‏"‏ أَعِنْدَكِ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لَيْسَ عِنْدِي شَىْءٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَنَا صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ثُمَّ دَارَ عَلَىَّ الثَّانِيَةَ وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ فَعَجِبْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَخَلْتَ عَلَىَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ ثُمَّ أَكَلْتَ حَيْسًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ يَا عَائِشَةُ إِنَّمَا مَنْزِلَةُ مَنْ صَامَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ - أَوْ غَيْرِ قَضَاءِ رَمَضَانَ أَوْ فِي التَّطَوُّعِ - بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ أَخْرَجَ صَدَقَةَ مَالِهِ فَجَادَ مِنْهَا بِمَا شَاءَ فَأَمْضَاهُ وَبَخِلَ مِنْهَا بِمَا بَقِيَ فَأَمْسَكَهُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوم کر میرے پاس آئے اور پوچھا: ”تمہارے پاس کوئی چیز ( کھانے کی ) ہے؟“ میں نے عرض کیا، میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں“، پھر ایک اور بار میرے پاس آئے، اس وقت ہمارے پاس حیس ہدیہ میں آیا ہوا تھا، تو میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوئی تو آپ نے اسے کھایا، تو مجھے اس بات سے حیرت ہوئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمارے پاس آئے تو روزہ سے تھے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیس کھا لیا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں عائشہ! جس نے کوئی روزہ رکھا لیکن وہ روزہ رمضان کا یا رمضان کی قضاء کا نہ ہو، یا نفلی روزہ ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اپنے مال میں سے ( نفلی ) صدقہ نکالا، پھر اس میں سے جتنا چاہا سخاوت کر کے دے دیا اور جو بچ رہا بخیلی کر کے اسے روک لیا“ ۱؎۔
راوی
It Was
ماخذ
سنن نسائی # ۲۲/۲۳۲۳
درجہ
Hasan
زمرہ
باب ۲۲: روزہ
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Fasting #Charity #Mother

متعلقہ احادیث