سنن نسائی — حدیث #۲۳۸۶۶

حدیث #۲۳۸۶۶
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ جَاءَنِي عُوَيْمِرٌ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَجْلاَنِ - فَقَالَ أَىْ عَاصِمُ أَرَأَيْتُمْ رَجُلاً رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ يَا عَاصِمُ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَسَأَلَ عَاصِمٌ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَعَابَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَكَرِهَهَا ‏.‏ فَجَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ مَا صَنَعْتَ يَا عَاصِمُ فَقَالَ صَنَعْتُ أَنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا ‏.‏ قَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لأَسْأَلَنَّ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَائْتِ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَهْلٌ وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ بِهَا فَتَلاَعَنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَئِنْ أَمْسَكْتُهَا لَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا ‏.‏ فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِفِرَاقِهَا فَصَارَتْ سُنَّةَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ ‏.‏
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عجلان کا ایک شخص عویمر میرے پاس آیا اور کہنے لگا: عاصم! بھلا بتاؤ تو صحیح؟ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر شخص کو دیکھتا ہے، اگر وہ اسے قتل کر دیتا ہے تو کیا تم لوگ اسے قتل کر دو گے یا وہ کیا کرے؟ عاصم میرے واسطے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو تو عاصم رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے سوالات کو برا جانا اور ناپسند کیا، عویمر ان کے پاس آئے اور کہا: عاصم! کیا کیا تو نے؟ ( مسئلہ پوچھا یا نہیں؟ ) انہوں نے کہا: میں نے کیا تو ( یعنی پوچھا تو ) لیکن تو اچھا سوال لے کر نہیں آیا تھا ( جواب کیا ملتا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے سوالات کو ناپسند کیا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں تو ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات پوچھ کر رہوں گا ( یہ کوئی فرضی سوال نہیں امر واقع ہے ) پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے معاملے میں حکم نازل فرما دیا ہے۔ تو ( جاؤ ) اسے لے کر آؤ“، سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس وقت میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، وہ اسے لے کر آئے اور دونوں نے لعان کیا ۱؎۔ پھر اس نے ( یعنی عویمر نے ) کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی اگر میں نے اسے اپنے پاس رکھا تو میں اس پر تہمت لگانے والا ٹھہروں گا ( یہ کہہ کر ) انہوں نے اسے طلاق دے کر چھوڑ دیا اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے چھوڑ دینے کا حکم دیتے۔ ( راوی کہتے ہیں ) پھر لعان کرنے والوں میں یہی طریقہ رائج ہو گیا ( یعنی لعان کے بعد میاں بیوی دونوں جدا ہو جائیں ) ۔
راوی
سہل بن سعد، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے
ماخذ
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۶۶
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۷: طلاق
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother #Marriage

متعلقہ احادیث