سنن نسائی — حدیث #۲۱۳۳۲
حدیث #۲۱۳۳۲
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ أَسْفَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ فَلَمَّا قَرَأَ { غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ } قَالَ " آمِينَ " . فَسَمِعْتُهُ وَأَنَا خَلْفَهُ . قَالَ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ صَلاَتِهِ قَالَ " مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَةِ فِي الصَّلاَةِ " . فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا أَرَدْتُ بِهَا بَأْسًا . قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَقَدِ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا فَمَا نَهْنَهَهَا شَىْءٌ دُونَ الْعَرْشِ " .
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے اللہ اکبر کہا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے تک اٹھایا، پھر جب آپ نے «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہا تو آپ نے آمین کہی جسے میں نے سنا، اور میں آپ کے پیچھے تھا ۱؎، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہتے سنا، تو جب آپ اپنی نماز سے سلام پھیر لیا تو پوچھا: نماز میں کس نے یہ کلمہ کہا تھا؟ تو اس شخص نے کہا: میں نے اللہ کے رسول! اور اس سے میں نے کسی برائی کا ارادہ نہیں کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر بارہ فرشتے جھپٹے تو اسے عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز روک نہیں سکی ۔
راوی
عبد الجبار بن وائل رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن نسائی # ۱۱/۹۳۲
درجہ
Sahih Lighairihi
زمرہ
باب ۱۱: نماز شروع کرنا