سنن نسائی — حدیث #۲۱۶۲۶
حدیث #۲۱۶۲۶
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ " . فَقَالَ قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ " . فَقَالُوا نَعَمْ . فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلاَةِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی، تو دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا، ذوالیدین کھڑے ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ان دونوں میں سے ) کوئی بات بھی نہیں ہوئی ہے ، ذوالیدین نے کہا: اللہ کے رسول! ان دونوں میں سے کوئی ایک بات ضرور ہوئی ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور آپ نے ان سے پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، ( سچ کہہ رہے ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سے جو رہ گیا تھا، اسے پورا، کیا پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔
راوی
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن نسائی # ۱۳/۱۲۲۶
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۳: نماز میں سہو