بلغ المرام — حدیث #۳۷۶۰۹
حدیث #۳۷۶۰۹
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ اَلْأَسْوَدِ - رضى الله عنه - { أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -صَلَاةَ اَلصُّبْحِ, فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ لَمْ يُصَلِّيَا, فَدَعَا بِهِمَا, فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا, فَقَالَ لَهُمَا: "مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا?" قَالَا: قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا. قَالَ: "فَلَا تَفْعَلَا, إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمْ, ثُمَّ أَدْرَكْتُمْ اَلْإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ, فَصَلِّيَا مَعَهُ, فَإِنَّهَا لَكُمْ نَافِلَةٌ" } رَوَاهُ أَحْمَدُ, وَاللَّفْظُ لَهُ, وَالثَّلَاثَةُ, وَصَحَّحَهُ اَلتِّرْمِذِيُّ, وَابْنُ حِبَّان َ 1 .1 - صحيح. رواه أحمد (4/160 و 161)، والنسائي (2/112)، وأبو داود (575) و (576)، والترمذي (219)، وابن حبان (1564 و 1565) وقال الترمذي: "حسن صحيح". الفرائض: جمع فريضة، وهي اللحمة التي بين الجنب والكتف تهتز عند الفزع والخوف. وقوله: "فلا تفعلا" قال ابن حبان: لفظة زجر مرادها ابتداء أمر مستأنف.
اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دو آدمیوں کو دیکھا جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ اس نے انہیں لانے کا حکم دیا اور وہ خوف سے کانپتے ہوئے لائے گئے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ آپ کو ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا تھا؟انہوں نے کہا: ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ چکے ہیں، آپ نے فرمایا: ایسا نہ کرو! اگر آپ اپنے گھروں میں نماز پڑھتے ہیں اور پھر آپ آتے ہیں جبکہ امام نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی ہے تو آپ اس کے ساتھ نماز پڑھیں، اور یہ آپ کے لیے نفلی نماز ہوگی۔"
.
راوی
یزید بن الاسود رضی اللہ عنہ
ماخذ
بلغ المرام # ۲/۳۰۵
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲: باب ۲: The Book of Prayer