سنن دارمی — حدیث #۵۵۱۳۰
حدیث #۵۵۱۳۰
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا : مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالُوا : وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ؟ " ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ :" إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهُمُ الشَّرِيفُ، تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ، أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ، لَقَطَعْتُ يَدَهَا "
ہم سے احمد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن الزبیر سے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ ان میں قریش سب سے زیادہ اہم تھے۔ چوری کرنے والی چھپی ہوئی عورت کا معاملہ۔ انہوں نے کہا: اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات کرے گا؟ کہنے لگے: کس کی ہمت ہے؟ سوائے اسامہ بن زید کے، محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بات کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اللہ کی مقرر کردہ حدوں میں سے کسی کی سفارش کرتے ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور خطبہ دیا اور فرمایا: ”لیکن جو لوگ تم سے پہلے تھے، اگر کوئی ان سے چوری کرتا ہے تو وہ انہوں نے معزز کو چھوڑ دیا اور اگر ان میں سے کوئی کمزور چوری کرے تو اس پر عذاب نازل کیا اور خدا کی قسم اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔
ماخذ
سنن دارمی # ۱۳/۲۲۲۹
زمرہ
باب ۱۳: باب ۱۳
موضوعات:
#Mother