سنن نسائی — حدیث #۲۲۷۱۷

حدیث #۲۲۷۱۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ‏}‏ يُطِيقُونَهُ يُكَلَّفُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ وَاحِدٍ ‏{‏ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا ‏}‏ طَعَامُ مِسْكِينٍ آخَرَ لَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ ‏{‏ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ ‏}‏ لاَ يُرَخَّصُ فِي هَذَا إِلاَّ لِلَّذِي لاَ يُطِيقُ الصِّيَامَ أَوْ مَرِيضٍ لاَ يُشْفَى ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه» میں «‏‏‏‏يطيقونه» کی تفسیر میں کہتے ہیں معنی یہ ہے کہ جو لوگ روزہ رکھنے کے مکلف ہیں، ( تو ہر روزہ کے بدلے ) ان پر ایک مسکین کے دونوں وقت کے کھانے کا فدیہ ہے، ( اور جو شخص ازراہ ثواب و نیکی و بھلائی ) ایک سے زیادہ مسکین کو کھانا دے دیں تو یہ منسوخ نہیں ہے، ( یہ اچھی بات ہے، اور زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ روزہ ہی رکھے جائیں ) یہ رخصت صرف اس شخص کے لیے ہے جو روزہ کی طاقت نہ رکھتا ہو، یا بیمار ہو اور اچھا نہ ہو پا رہا ہو۔
راوی
عطاء ابن عباس رضی اللہ عنہ سے
ماخذ
سنن نسائی # ۲۲/۲۳۱۷
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۲: روزہ
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Fasting #Charity #Mother

متعلقہ احادیث