سنن نسائی — حدیث #۲۱۴۱۱
حدیث #۲۱۴۱۱
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ - وَهُوَ ابْنُ إِيَاسٍ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا } قَالَ نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ - وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ - وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا صَوْتَهُ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم { وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ } أَىْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعُ الْمُشْرِكُونَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ { وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا } عَنْ أَصْحَابِكَ فَلاَ يَسْمَعُوا { وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً } .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپے رہتے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کو نماز پڑھاتے تو اپنی آواز بلند کرتے، ( ابن منیع کی روایت میں ہے: قرآن زور سے پڑھتے ) جب مشرکین آپ کی آواز سنتے تو قرآن کو اور جس نے اسے نازل کیا ہے اسے، اور جو لے کر آیا ہے اسے سب کو برا بھلا کہتے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے محمد! اپنی نماز یعنی اپنی قرأت کو بلند نہ کریں کہ مشرکین سنیں تو قرآن کو برا بھلا کہیں، اور نہ اسے اتنی پست آواز میں پڑھیں کہ آپ کے ساتھی سن ہی نہ سکیں، بلکہ ان دونوں کے بیچ کا راستہ اختیار کریں۔
راوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
ماخذ
سنن نسائی # ۱۱/۱۰۱۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۱: نماز شروع کرنا