سنن دارمی — حدیث #۵۴۹۸۹
حدیث #۵۴۹۸۹
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : كُنْتُ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لِي مَبِيتٌ إِلَّا فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ يَأْتُونَهُ فَيَقُصُّونَ عَلَيْهِ الرُّؤْيَا، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا لِي لَا أَرَى شَيْئًا؟ فَرَأَيْتُ كَأَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ فَيُرْمَى بِهِمْ عَلَى أَرْجُلِهِمْ فِي رَكِيٍّ فَأُخِذْتُ، فَلَمَّا دَنَى إِلَى الْبِئْرِ، قَالَ رَجُلٌ : خُذُوا بِهِ ذَاتَ الْيَمِينِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظْتُ، هَمَّتْنِي رُؤْيَايَ وَأَشْفَقْتُ مِنْهَا، فَسَأَلْتُ حَفْصَةَ عَنْهَا، فَقَالَتْ : نِعْمَ مَا رَأَيْتَ.
فَقُلْتُ لَهَا : سَلِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهُ، فَقَالَ :" نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ".
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.
قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَكُنْتُ إِذَا نِمْتُ، لَمْ أَقُمْ حَتَّى أُصْبِحَ.
قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي اللَّيْلَ
ہم سے ابو علی الحنفی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے نافع کی سند سے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا۔ اور میرے پاس ٹھہرنے کی جگہ نہیں ہے سوائے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ صبح ہوتے ہی وہ اس کے پاس آتے اور اسے رویا سناتے۔ اس نے کہا: تو میں نے کہا: مجھے کچھ نظر کیوں نہیں آرہا؟ میں نے دیکھا کہ گویا لوگوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے اور ان کے پاؤں کے بل گڑھے میں ڈالا جا رہا ہے تو مجھے لے جایا گیا۔ جب وہ کنویں کے قریب پہنچا تو ایک آدمی نے کہا: اسے اکیلا لے جاؤ۔ ٹھیک ہے، جب میں بیدار ہوا، میرے خوابوں نے مجھے فکر مند کیا۔ مجھے اس پر افسوس ہوا تو میں نے حفصہ سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہاں، جو میں نے دیکھا۔ تو میں نے اس سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو۔ تو میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: عبداللہ کتنا اچھا آدمی ہے اگر وہ رات کو نماز پڑھے۔ ہم سے موسیٰ بن خالد نے ابراہیم بن محمد الفزاری کی سند سے بیان کیا۔ عبید اللہ، نافع کی سند سے، ابن عمر کی سند سے، اس حدیث کے ساتھ۔ ابن عمر نے کہا: اور جب میں سوتا تھا تو صبح تک نہیں اٹھتا تھا۔ نافع کہتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہ رات کی نماز پڑھتے تھے۔
ماخذ
سنن دارمی # ۱۰/۲۰۸۸
زمرہ
باب ۱۰: باب ۱۰