مؤطا امام مالک — حدیث #۳۴۷۲۴
حدیث #۳۴۷۲۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ، فِرَاشَهُ أَوْتَرَ وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُوتِرُ آخِرَ اللَّيْلِ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَأَمَّا أَنَا فَإِذَا جِئْتُ فِرَاشِي أَوْتَرْتُ .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ابوبکر جب سونے کو آتے اپنے بستر پر وتر پڑھ لیتے اور عمر بن خطاب آخر رات میں وتر پڑھتے تھے بعد تہجد کے اور سعید بن مسیب نے کہا کہ میں جب اپنے بچھونے پر سونے کو آتا ہوں تو وتر پڑھ لیتا ہوں ۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے کیا وتر واجب ہے تو کہا عبداللہ بن عمر نے وتر ادا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ بی بی عائشہ فرماتی تھیں جس شخص کو خوف ہو کہ اس کی آنکھ نہ کھلے گی صبح تک تو وہ وتر پڑھ لے سونے سے پیشتر اور جو امید رکھے جاگنے کی آخر شب میں تو وہ دیر کرے وتر میں ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۷/۲۶۹
درجہ
Mauquf Sahih
زمرہ
باب ۷: تہجد
موضوعات:
#Mother