مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۱۸۱

حدیث #۳۵۱۸۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ زُيَيْدٍ، عَنْ غَيْرِ، وَاحِدٍ، مِنْ أَهْلِهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ وَهُوَ بِالشَّجَرَةِ وَإِلَى جَنْبِهِ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ فَقَالَ عُمَرُ مِمَّنْ رِيحُ هَذَا الطِّيبِ فَقَالَ كَثِيرٌ مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَبَّدْتُ رَأْسِي وَأَرَدْتُ أَنْ لاَ أَحْلِقَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ فَاذْهَبْ إِلَى شَرَبَةٍ فَادْلُكْ رَأْسَكَ حَتَّى تُنَقِّيَهُ ‏.‏ فَفَعَلَ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الشَّرَبَةُ حَفِيرٌ تَكُونُ عِنْدَ أَصْلِ النَّخْلَةِ ‏.‏
صلت بن زبید سے روایت ہے کہ انہوں نے کئی اپنے عزیزوں سے سنا کہ حضرت عمر بن خطاب کو خوشبو آئی اور وہ شجرہ میں تھے اور آپ کے پہلو میں کثیر بن صلت تھے تو کہا عمر نے کس میں سے یہ خوشبو آتی ہے کثیر نے کہا مجھ میں سے میں نے اپنے بال جمائے تھے کیونکہ میرا ارادہ سر منڈانے کا نہ تھا بعد احرام کھولنے کے، حضرت عمر نے کہا شربہ (وہ گڑھا جو کھجور کے درخت کے پاس ہوتا ہے جس میں پانی بھرا رہتا ہے) کے پاس جا اور سر کو مل کر دھو ڈال تب ایسا کیا کثیر بن صلت نے ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۲۶
درجہ
Maqtu Sahih
زمرہ
باب ۲۰: حج
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث