مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۴۰۷

حدیث #۳۵۴۰۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ عَدَلَ إِلَىَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا نَازِلٌ، تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَقَالَ مَا أَنْزَلَكَ تَحْتَ هَذِهِ السَّرْحَةِ فَقُلْتُ أَرَدْتُ ظِلَّهَا ‏.‏ فَقَالَ هَلْ غَيْرُ ذَلِكَ فَقُلْتُ لاَ مَا أَنْزَلَنِي إِلاَّ ذَلِكَ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كُنْتَ بَيْنَ الأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًى - وَنَفَخَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ - فَإِنَّ هُنَاكَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ السُّرَرُ بِهِ شَجَرَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا ‏"‏ ‏.‏
عمران انصاری سے روایت ہے کہ میرے پاس عبداللہ بن عمر آئے اور میں مکے کی راستے میں ایک درخت کے تلے ٹھہرا ہوا تھا ، تو انہوں نے پوچھا کیوں ٹھہرا تو اس درخت کے تلے ، میں نے کہا سایہ کے واسطے انہوں نے کہا یا اور کسی کام کے واسطے میں نے کہا نہیں، میں صرف سایہ کے واسطے ٹھہرا ہوں، عبداللہ بن عمر نے کہا : فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تو منی میں دو پہاڑوں کے بیچ میں پہنچے اور اشارہ کیا ہاتھ سے پورب کی طرف وہاں ایک جگہ ہے جس کو سُرر کہتے ہیں وہاں ایک درخت ہے اس کے تلے ستر نبیوں کی نال کاٹی گئی یا ستر نبیوں کو نبوت ملی پس وہ اس سبب سے خوش ہوئے ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۲۰/۹۵۲
درجہ
Daif
زمرہ
باب ۲۰: حج
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث