مؤطا امام مالک — حدیث #۳۶۰۴۱

حدیث #۳۶۰۴۱
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ - يُقَالُ لَهُ قَتَادَةُ - حَذَفَ ابْنَهُ بِالسَّيْفِ فَأَصَابَ سَاقَهُ فَنُزِيَ فِي جُرْحِهِ فَمَاتَ فَقَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اعْدُدْ عَلَى مَاءِ قُدَيْدٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ بَعِيرٍ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَيْكَ فَلَمَّا قَدِمَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخَذَ مِنْ تِلْكَ الإِبِلِ ثَلاَثِينَ حِقَّةً وَثَلاَثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً ثُمَّ قَالَ أَيْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ قَالَ هَا أَنَا ذَا ‏.‏ قَالَ خُذْهَا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏
عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بنی مدلج میں سے جس کا نام قتادہ تھا اپنے لڑکے کو تلوار ماری وہ اس کے پنڈلی میں لگی خون بند نہ ہوا آخر مر گیا تو سراقہ بن جعشم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا قدید کے پاس ایک سو بیس اونٹ تیار رکھ جب تک میں وہاں آؤں جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں آئے تو ان اونٹوں میں سے تین حقے اور بیس جزعے لئے اور چالیس حقے لئے پھر کہا کون ہے مقتول کا بھائی؟ اس نے کہا کیوں میں موجود ہوں نا! کہا تو یہ سب اونٹ لے لے اس واسطے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاتل کو میراث نہیں ملتی سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ ماہ حرام میں اگر کوئی قتل کرے تو دیت میں سختی کریں گے انہوں نے کہا نہیں بلکہ بڑھا دیں گے بوجہ ان مہینوں کی حرمت کے پھر سعید سے پوچھا کہ اگر کوئی زخمی کرے ان مہینوں میں تو اس کی بھی دیت بڑھا دیں گے جیسسے قتل کی دیت بڑھا دیں گے سعید نے کہا ہاں ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۴۳/۱۵۸۶
درجہ
Daif
زمرہ
باب ۴۳: دیت
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother #Death

متعلقہ احادیث