مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۴۴۴
حدیث #۳۵۴۴۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلاً غَيْرَ مُدْبِرٍ أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَاىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " . فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَمَرَ بِهِ فَنُودِيَ لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَيْفَ قُلْتَ " . فَأَعَادَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ إِلاَّ الدَّيْنَ كَذَلِكَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ " .
ابوقتادہ انصاری سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں قتل کیا جاؤں اللہ کی راہ میں جس حال میں کہ میں صبر کرنے والا ہوں مخلص ہوں منہ سامنے رکھنے والا ہوں نہ پیٹھ موڑنے والا ہوں، کیا بخش دے گا اللہ گناہ میرے؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں، جب وہ شخص واپس لوٹا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا یا بلانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ کیا کہا تو نے؟ اس نے اپنی بات کو دہرادیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مگر قرض، ایسا ہی کہا مجھ سے جبرائیل نے ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۸۹
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۱: جہاد