مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۵۵۱
حدیث #۳۵۵۵۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، كَانَا يُنْكِحَانِ بَنَاتِهِمَا الأَبْكَارَ وَلاَ يَسْتَأْمِرَانِهِنَّ . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي نِكَاحِ الأَبْكَارِ . قَالَ مَالِكٌ وَلَيْسَ لِلْبِكْرِ جَوَازٌ فِي مَالِهَا حَتَّى تَدْخُلَ بَيْتَهَا وَيُعْرَفَ مِنْ حَالِهَا .
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثیبہ زیادہ حقدار ہے اپنے نفس پر ولی سے اور باکرہ سے اذن لیا جائے گا اور اذن اس کا سکوت ہے ۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا عورت کا نکاح نہ کیا جائے مگر اس کے ولی کے اذن سے یا اس کے کنبے میں یا جو شخص عقلمند ہو اس کے اذن سے یا بادشاہ کے اذن سے ۔ قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ اپنی بیٹیوں کا نکاح کرتے تھے اور ان سے نہیں پوچھتے تھے ۔ قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ اور سلیمان بن یسار کہتے تھے اگر باکرہ عورت کا نکاح اس کے اذن کے بغیر کر دے تو نکاح اس کا لازم ہو جاتا ہے ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۰۹۶
درجہ
Maqtu Daif
زمرہ
باب ۲۸: نکاح