مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۸۰۷

حدیث #۳۵۸۰۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ لاَ رِبًا فِي الْحَيَوَانِ وَإِنَّمَا نُهِيَ مِنَ الْحَيَوَانِ عَنْ ثَلاَثَةٍ عَنِ الْمَضَامِينِ وَالْمَلاَقِيحِ وَحَبَلِ الْحَبَلَةِ ‏.‏ وَالْمَضَامِينُ بَيْعُ مَا فِي بُطُونِ إِنَاثِ الإِبِلِ وَالْمَلاَقِيحُ بَيْعُ مَا فِي ظُهُورِ الْجِمَالِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ يَنْبَغِي أَنْ يَشْتَرِيَ أَحَدٌ شَيْئًا مِنَ الْحَيَوَانِ بِعَيْنِهِ إِذَا كَانَ غَائِبًا عَنْهُ وَإِنْ كَانَ قَدْ رَآهُ وَرَضِيَهُ عَلَى أَنْ يَنْقُدَ ثَمَنَهُ لاَ قَرِيبًا وَلاَ بَعِيدًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا كُرِهَ ذَلِكَ لأَنَّ الْبَائِعَ يَنْتَفِعُ بِالثَّمَنِ وَلاَ يُدْرَى هَلْ تُوجَدُ تِلْكَ السِّلْعَةُ عَلَى مَا رَآهَا الْمُبْتَاعُ أَمْ لاَ فَلِذَلِكَ كُرِهَ ذَلِكَ وَلاَ بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ مَضْمُونًا مَوْصُوفًا ‏.‏
سعید بن مسیب نے کہا حیوان میں ربا نہیں ہے بلکہ حیوان میں تین بیعیں نا درست ہیں ایک مضامیں کی دوسرے ملا قیح کی تیسے حبل الحبلہ کی مضامیں وہ جانور جو مادہ کے شکم میں ہیں ملاقیح وہ جانور جو رن کے پشت میں ہیں حبل الحبلہ کا بیان ابھی ہو چکا ہے ،۔ کہا مالک نے معین جانور کی بیع جب وہ غائب ہو خواہ نزدیک ہو یا دور درست نہیں ہے۔ اگرچہ مشتری (خریدنے والا) اس جانور کو دیکھ چکا ہو اور پسند کرچکا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) سے دام لے کر نفع اٹھائے گا۔ اور مشتری (خریدنے والا) کو معلوم نہیں وہ جانور صحیح سالم جس طور سے اس نے دیکھا تھا ملے یا نہ ملے البتہ اگر غیر معین جانور کو اوصاف بیان کرکے بیچے تو کچھ قباحت نہیں ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۵۲
درجہ
Maqtu Sahih
زمرہ
باب ۳۱: تجارت
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث