مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۷۴۶
حدیث #۳۵۷۴۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے حضرت عمر نے فرمایا جو شخص غلام کو بیچے اور اس کے پاس مال ہو تو وہ مال بائع (بچنے والا) کو ملے گا مگر جب خریدار شرط کر لے کہ وہ مال میں لوں گا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس پر اجماع ہے کہ خریدار اگر شرط کر لے گا اس مال کے لینے کی تو وہ مال اسی کو ملے گا نقد ہو یا کسی پر قرض ہو یا اسباب ہو معلوم ہو یا نہ معلوم ہو اگرچہ وہ مال اس زر ثمن سے زیادہ ہو۔ جس کے عوض میں وہ غلام بکا ہے کیونکہ غلام کے مال میں مولیٰ پر زکوة نہیں ہے وہ غلام ہی کا سمجھا جائے گا اور اس غلام کی اگر کوئی لونڈی ہوگی تو مولیٰ کو اس سے وطی کرنا درست ہو جائے گا اور اگر یہ غلام آزاد ہو جاتا یا مکاتب تو اس کا مال اسی کو ملتا اگر مفلس ہو جاتا تو قرض خواہوں کو مل جاتا اس کے مولیٰ سے مؤ اخذہ نہ ہوتا۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۲۹۱
درجہ
Mauquf Sahih
زمرہ
باب ۳۱: تجارت