مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۸۱۰
حدیث #۳۵۸۱۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ نُهِيَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ، بِاللَّحْمِ . قَالَ أَبُو الزِّنَادِ فَقُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً اشْتَرَى شَارِفًا بِعَشَرَةِ شِيَاهٍ فَقَالَ سَعِيدٌ إِنْ كَانَ اشْتَرَاهَا لِيَنْحَرَهَا فَلاَ خَيْرَ فِي ذَلِكَ . قَالَ أَبُو الزِّنَادِ وَكُلُّ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنَ النَّاسِ يَنْهَوْنَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِاللَّحْمِ . قَالَ أَبُو الزِّنَادِ وَكَانَ ذَلِكَ يُكْتَبُ فِي عُهُودِ الْعُمَّالِ فِي زَمَانِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ يَنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ .
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ گوشت اونٹ کا ہو یا بکری کا یا اور کسی جانور کا اس کا گوشت ، گوشت سے بدلنا درست نہیں مگر برابر تول کر نقدا نقد اگر اٹکل سے برابری کرے تو بھی کافی ہے۔ کہا مالک نے مچھلیوں کا گوشت اگر اونٹ یا گائے یا بکری کے گوشت کے بدلے میں بیچے کم وبیش تو بھی کچھ قباحت نہیں ہے مگر یہ ضروری ہے کہ نقدا نقد ہو میعاد نہ ہو۔ کہا مالک نے پرندوں کا گوشت میرے نزدیک چرندوں اور مچھلیوں کے گوشت سے بڑافرق رکھتا ہے اگر یہ کم وبیش بیچے جائیں تو کچھ قباحت نہیں ہے مگر یہ ضروری ہے کہ نقدا نقد ہو۔ میعاد نہ ہو۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۵۵
درجہ
Maqtu Sahih
زمرہ
باب ۳۱: تجارت
موضوعات:
#Mother