مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۸۶۵
حدیث #۳۵۸۶۵
قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، كَانَ يَقْضِي بِشَهَادَةِ الصِّبْيَانِ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنَ الْجِرَاحِ . قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ شَهَادَةَ الصِّبْيَانِ تَجُوزُ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنَ الْجِرَاحِ وَلاَ تَجُوزُ عَلَى غَيْرِهِمْ وَإِنَّمَا تَجُوزُ شَهَادَتُهُمْ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنَ الْجِرَاحِ وَحْدَهَا لاَ تَجُوزُ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقُوا أَوْ يُخَبَّبُوا أَوْ يُعَلَّمُوا فَإِنِ افْتَرَقُوا فَلاَ شَهَادَةَ لَهُمْ إِلاَّ أَنْ يَكُونُوا قَدْ أَشْهَدُوا الْعُدُولَ عَلَى شَهَادَتِهِمْ قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقُوا .
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر لڑکوں کی گواہی پر حکم کرتے تھے ان کے آپس کی مار پیٹ کے ۔ کہا مالک نے لڑکے لڑ کر ایک دوسرے کو زخمی کریں تو ان کی گواہی درست ہے لیکن لڑکوں کی گواہی اور مقدمات میں درست نہیں ہے یہ بھی جب درست ہے کہ لڑ لڑا کر جدا نہ ہوگئے ہوں مکر نہ کیا ہو اگر جدا جدا چلے گئے ہوں تو پھر ان کی گواہی درست نہیں ہے مگر جب عادل لوگوں کو اپنی شہادت پر شاہد کر گئے ہوں ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۱۰
درجہ
Mauquf Sahih
زمرہ
باب ۳۶: عدالتی فیصلے
موضوعات:
#Mother