مؤطا امام مالک — حدیث #۳۶۰۶۶
حدیث #۳۶۰۶۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلاَلٌ - قَالَتْ - فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ وَيَا بِلاَلُ كَيْفَ تَجِدُكَ قَالَتْ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلاَلٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ فَيَقُولُ أَلاَ لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ " .
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں آئے تو ابوبکر اور بلال کو بخار آیا حضرت عائشہ ان کے پاس گئیں اور کہا کہ اے میرے باپ کیا حال ہے اے بلال کیا حال ہے حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ابوبکر کو جب بخار آتا تو وہ ایک شعر پڑھتے جس کا ترجمہ یہ ہے ہر آدمی صبح کرتا ہے اپنے گھر میں اور موت اس سے نزدیک ہوتی ہے اس کے جوتی کے تسمے سے ۔ اور بلال کا جب بخار اترتا تو اپنی آواز نکالتے اور پکار کر کہتے کاش کہ مجھے معلوم ہوتا کہ میں ایک رات پھر مکہ کی وادی میں رہوں گا اور میرے گرد اذخر اور جلیل ہوں گی ( اذخر اور جلیل دونوں گھاس ہیں مکہ کی ) اور کبھی میں پھر اتروں گا مجنہ کے پانی پر ( مجنہ ایک جگہ ہے کئی میل پر مکہ سے وہاں زمانہ جاہلیت میں بازار تھے ) اور کبھی پھر دکھلائی دینگے مجھے شامہ طفیل (دو پہاڑ ہیں مکہ سے تیس میل پر یا دو چشمے ہیں ) حضرت عائشہ نے یہ باتیں سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر بیان کیں آپ نے دعا فرمائی اے پروردگار محبت ڈال دے ہمارے دلوں میں مدینہ کی جتنی محبت تھی مکہ کی یا اس سے بھی زیادہ اور صحت اور تندرستی کردے مدینہ میں اور برکت دے اس کے صاع اور مد میں اور دور کردے بخار وہاں کا اور بھیج دے اس بخار کو جحفہ (ایک بستی ہے مکہ سے بیاسی میل دور وہاں یہودی رہتے تھے) میں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ عامر بن فہیرہ کہتے تھے کہ میں نے موت کو مرنے سے آگے دیکھ لیا نامرد کی موت اوپر سے آتی ہے ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۱۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۴۵: مدینہ